وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا خیبر پختونخوا حکومت پر مذاکراتی وعدوں سے پیچھے ہٹنے کا الزام

اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے دعویٰ کیا ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت وفاق کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے آخری مرحلے میں اپنے وعدوں اور طے شدہ معاہدے سے مکر گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صوبے کو اس وقت شدید سکیورٹی چیلنجز اور جنگ جیسی صورتحال کا سامنا ہے، ایسے حساس حالات میں امن و امان اور سکیورٹی کے معاملات کو سیاسی تنازعات کا حصہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔

تحریری معاہدے اور عملدرآمد کا پلان

سماجی رابطے کے پلیٹ فارم 'ایکس' پر اپنے ایک بیان میں وزیر داخلہ نے بتایا کہ صوبائی حکومت ایک تحریری معاہدے پر دستخط کرنے اور 72 گھنٹوں کے اندر عملدرآمدی پلان جمع کرانے پر رضامند ہو گئی تھی، تاہم آخری لمحات میں اس سے انحراف کیا گیا۔

مجوزہ معاہدے کے اہم نکات

محسن نقوی کی جانب سے شیئر کردہ تفصیلات کے مطابق مجوزہ مسودے میں درج ذیل اہم نکات شامل تھے:

وزیر داخلہ نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ملک اور بالخصوص خیبر پختونخوا کے مفاد میں تمام فریقین کو سیاسی مفادات سے بالا تر ہو کر سکیورٹی فورسز کا ساتھ دینا چاہیے تاکہ دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑا جا سکے۔