
یورپ کا سنہرا خواب یا دردِ سر؟ ڈی جی ایف آئی اے کی وارننگ اور زمینی حقائق
ماخذ: وسپرو اردو / پاکستان آبزرویر | ویب ڈیسک (VSPro News)
آج کے دور میں بہتر مستقبل اور روشن کیریئر کی تلاش ہر نوجوان کا خواب ہوتا ہے۔ اس خواب کو پورا کرنے کے لیے بہت سے نوجوان اپنے ملک سے باہر کا رخ کرتے ہیں، بالخصوص یورپ جانے کی خواہش نوجوان نسل میں ایک جنون کی حد تک پائی جاتی ہے۔ لیکن حال ہی میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (FIA) کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر عثمان انوار کی طرف سے آنے والا بیان اس اندھی دوڑ پر ایک گہرا سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔
بدلتے ہوئے یورپی حالات
ڈاکٹر عثمان انوار نے لاہور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یورپ میں اب حالات پہلے جیسے سازگار نہیں رہے۔ ماضی میں لوگ بہتر معاشی مواقع کی تلاش میں آسانی سے وہاں آباد ہو جاتے تھے، لیکن اب سخت قوانین، روزگار کے مواقع میں کمی اور مہنگائی کی وجہ سے صورتحال یکسر بدل چکی ہے۔ اس کے باوجود، غیر قانونی ہجرت کے ایجنٹس نوجوانوں کو سبز باغ دکھا کر ان کی زندگیوں اور جمع پونجی کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔
انسانی اسمگلروں کے نئے ہتھکنڈے اور فضائی راستے
رپورٹس کے مطابق، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی سختی کے بعد انسانی اسمگلرز نے اپنے روایتی اور خطرناک زمینی راستوں کے ساتھ ساتھ اب فضائی راستوں (Air Routes) کا استعمال بھی بڑھا دیا ہے۔ یہ گروہ مختلف بہانوں اور جعلی دستاویزات کے ذریعے نوجوانوں کو جال میں پھنساتے ہیں۔ اگرچہ ایف آئی اے اس ناسور کے خلاف برسرِ پیکار ہے، لیکن ادارے کے سربراہ کا یہ اعتراف بھی اہم ہے کہ محدود وسائل اور افرادی قوت کی کمی کے باوجود اس چیلنج سے نمٹنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ہمیں کیا کرنے کی ضرورت ہے؟
- شعور و آگہی: والدین اور نوجوانوں کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ شارٹ کٹ یا غیر قانونی راستے سے حاصل کی گئی کامیابی ہمیشہ عارضی اور خطرناک ہوتی ہے۔
- ملک کے اندر مواقع: آج کا پاکستان ڈیجیٹل مارکیٹ، فری لانسرنگ اور ٹیکنالوجی کے لحاظ سے بے شمار مواقع فراہم کر رہا ہے۔
بریکنگ نیوز اور فوری اپڈیٹس کے لیے ہمارے ساتھ جڑیں!
تازہ ترین خبروں اور اپڈیٹس کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کریں اور فیس بک پیج لائک کریں۔
