
کیا آپ جانتے ہیں کہ پہاڑ کی چوٹی پر وقت زمین کے مقابلے میں تیز گزرتا ہے؟
VSPro News • کونیاتی اور سائنسی راز • اکتوبر 2026
جب بھی ہم گھڑی کی طرف دیکھتے ہیں، تو ہمارے ذہن میں یہی بات آتی ہے کہ وقت ہر ایک کے لیے یکساں رفتار سے بہه رہا ہے۔ چاہے ہم اپنے گھر کے کمرے میں بیٹھے ہوں یا کسی بلند پہاڑ کی چوٹی پر، سیکنڈ کی سوئی سب کے لیے برابر ٹک ٹک کرتی ہے۔ لیکن کیا آپ کو معلوم ہے کہ جدید فزکس اور آئن اسٹائن کا سائنسی نظریہ اس عام خیال کو مکمل طور پر جھٹلاتا ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ زمین پر موجود انسان اور کسی بلند پہاڑ یا آسمان کی بلندی پر بیٹھا شخص بالکل ایک ہی وقت میں نہیں ہوتا، بلکہ اونچائی پر موجود انسان زمین والے انسان کے مقابلے میں تھوڑا سا “مستقبل” میں ہوتا ہے!
وقت کا یہ پراسرار کھیل کیسے ہوتا ہے؟
مشہور سائنسدان البرٹ آئن اسٹائن نے اپنے نظریۂ اضافیت (Theory of Relativity) میں یہ انکشاف کیا تھا کہ وقت کوئی پتھر پر لکیر نہیں ہے، بلکہ یہ لچکدار ہے۔ وقت کے تیز یا سست چلنے کا انحصار بنیادی طور پر دو چیزوں پر ہوتا ہے: رفتار اور کشش ثقل (Gravity)۔
- زمین کے مرکز کا اثر: زمین کا مرکز (Core) ہمارے جسم اور زمین کی سطح کے قریب ہوتا ہے، اس لیے وہاں کشش ثقل کا اثر اپنی پوری طاقت سے موجود ہوتا ہے۔ فزکس کے اصول کے مطابق، جہاں گریویٹی زیادہ مضبوط ہوگی، وہاں وقت اتنی ہی سست رفتار سے گزرے گا۔
- پہاڑ کی چوٹی کا فرق: اس کے برعکس، جب آپ کسی بلند و بالا پہاڑ کی چوٹی پر جاتے ہیں، تو آپ زمین کے مرکز سے دور ہو जाते ہیں۔ مرکز سے دوری بڑھنے کی وجہ سے وہاں کشش ثقل کا اثر کمزور پڑ جاتا ہے۔ گریویٹی کم ہونے کی وجہ سے وہاں وقت انتہائی معمولی سیکنڈ کے کروڑویں حصے کے برابر تیز رفتار سے دوڑنے لگتا ہے۔
کیا یہ بات صرف خیالی ہے یا سچ؟
آپ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ تو صرف سائنسی تھیوری لگتی ہے، کیا حقیقت میں ایسا ہوتا ہے؟ جی ہاں! سائنسی تجربات نے یہ ثابت کیا ہے کہ اگر آپ دنیا کی سب سے حساس ترین گھڑیوں (Atomic Clocks) کو ایک کوٹھے یا پہاڑ پر رکھیں اور دوسری کو زمین کی سطح پر، تو پہاڑ والی گھڑی زمین والی گھڑی کے مقابلے میں کچھ نینو سیکنڈز آگے نکل جاتی ہے۔ اگرچہ یہ فرق اتنا چھوٹا ہے کہ انسانی جسم یا عمر پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا، لیکن کائنات کے پیمانے پر یہ ایک اٹل سائنسی حقیقت ہے۔
کائنات کے حیرت انگیز راز
وقت کا یہ ردوبدل (Time Dilation) اس بات کا ثبوت ہے کہ ہماری کائنات عام فہم سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور پراسرار ہے۔ بلیک ہولز اور خلاء کی وسعتوں میں تو وقت کا یہ فرق زمین کے مقابلے میں ہزاروں سال کا ہو سکتا ہے۔ قدرت کے یہ انوکھے سائنسی راز انسان کو دنگ کر دیتے ہیں کہ ہم جس دنیا میں رہ رہے ہیں، اس کے قوانین کتنے حیرت انگیز ہیں۔
