🚨 بریکنگ نیوز | پشاور سانحہ
پشاور سکول سانحہ: عمارت غیر معیاری سلیب اور حد سے زیادہ بوجھ کا شکار تھی، سی سی پی او ڈاکٹر میاں سعید کا انکشاف
تحریر: VSPro News ڈیسک | پشاور خبریں
پشاور کے علاقے دیر کالونی میں واقع الخیر سکول کی چھت گرنے کے دلخراش واقعے کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ سی سی پی او پشاور پولیس ڈاکٹر میاں سعید نے واقعے سے متعلق سنسنی خیز تفصیلات بتاتے ہوئے اسے سنگین غفلت کا نتیجہ قرار دیا ہے، جبکہ پولیس نے سکول پرنسپل کو گرفتار کر کے اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی قائم کر دی ہے۔
عمارت انتہائی خطرناک اور غیر معیاری تھی: سی سی پی او پشاور
سی سی پی او پشاور ڈاکٹر میاں سعید نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ انتہائی تنگ گلی میں واقع اس کثیر المنزلہ عمارت کی چھتوں کے سلیب معیاری نہیں تھے۔ ان کے مطابق حادثے کے وقت ہر منزل کا ایک ایک کلاس روم متاثر ہوا، جن میں مجموعی طور پر تقریباً 110 طلبہ موجود تھے (بالائی منزل پر 30، درمیانی منزل پر 40 اور گراؤنڈ فلور پر 45 طلبہ)۔
انھوں نے مزید کہا کہ پوری عمارت ‘ضرورت سے زیادہ بوجھ’ کا شکار تھی اور پولیس عوام سے اپیل کر رہی ہے کہ مزید حادثے کے خدشے کے پیشِ نظر عمارت سے دور رہیں۔ پولیس اس بات کا بھی جائزہ لے رہی ہے کہ تعمیراتی ضوابط کی کوئی خلاف ورزی ہوئی تھی یا نہیں۔
▪ پرنسپل کی گرفتاری: حادثے کے فوری بعد پولیس نے الخیر سکول کے پرنسپل کو حراست میں لے لیا ہے۔
▪ خستہ حال عمارت: ایس ایس پی آپریشنز فرحان احمد کے مطابق عمارت طلبہ کا بوجھ برداشت نہ کر سکی اور منہدم ہو گئی۔
3 رکنی تحقیقاتی کمیٹی کی تشکیل
خیبر پختونخوا کے ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے 3 رکنی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی ہے، جس کی سربراہی پرائیویٹ سکول ریگولیٹری اتھارٹی (PSRA) کے سربراہ جاوید اقبال کریں گے۔ یہ کمیٹی غفلت، تعمیراتی خامیاں اور حادثے کے اسباب کا تعین کر کے مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے سفارشات پیش کرے گی۔
