​ایف بی آر کا تاریخی قدم: ملک بھر میں “فیس لیس آڈٹ اور اسیسمنٹ” کا نظام نافذ

ایف بی آر کا تاریخی قدم: ملک بھر میں “فیس لیس آڈٹ اور اسیسمنٹ” کا نظام نافذ

اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) نے ملک کے ٹیکس نظام میں شفافیت لانے اور بدعنوانی کا خاتمہ کرنے کے لیے ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے 15 اکتوبر 2026 سے تمام نامزد ٹیکس دہندگان کے لیے “فیس لیس آڈٹ اور اسیسمنٹ” کے نظام کا باقاعدہ نفاذ کر دیا ہے۔

اس مقصد کے لیے انکم ٹیکس رولز 2006 میں ایک نیا باب (Chapter XX) شامل کیا گیا ہے، جس کا نوٹیفکیشن ایس آر او 1828(I)/2026 کے ذریعے جاری کیا گیا۔ اس نئے فریم ورک کے تحت ٹیکس سے متعلق تمام کارروائیاں، آڈٹ اور اسیسمنٹ اب نیشنل فیس لیس سینٹر (NFC) کے کمپیوٹرائزڈ ڈیجیٹل نظام کے ذریعے انجام دی جائیں گی۔


اطلاق اور دائرہ کار (قاعدہ 233 اور 236)

یہ نظام ان تمام کیسز پر لاگو ہو گا جو انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 122E کے تحت نامزد کیے جائیں گے۔ اس کے دائرہ کار میں دفعہ 177 اور 214C کے تحت ہونے والے آڈٹ، غیر معلنہ آمدن سے متعلق دفعہ 111 کی کارروائیاں اور باب X کے تحت ٹیکس اسیسمنٹ شامل ہیں۔

وظائف کی علیحدگی (قاعدہ 237)

شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے ایک ہی کیس اور ٹیکس سال کے لیے آڈٹ، اسیسمنٹ اور کوالٹی کنٹرول کے فرائض مختلف افسران یا الگ الگ یونٹس کو سونپے جائیں گے، تاکہ کسی ایک افسر کی اجارہ داری ختم ہو سکے۔

الیکٹرانک مواصلات اور آئرس (IRIS) کا استعمال (قاعدہ 238 اور 239)

ایف بی آر کے سسٹمز سے تمام نوٹسز، آرڈرز اور مراسلات ایک مخصوص ڈیجیٹل آئیڈنٹیفکیشن نمبر (DIN) کے ساتھ جاری ہوں گے۔ ٹیکس دہندگان اور ان کے بااختیار نمائندے اپنے تمام جوابات، دستاویزات اور ثبوت صرف اپنے تفویض کردہ ‘آئرس’ پورٹل کے ذریعے الیکٹرانک طور پر جمع کروانے کے پابند ہوں گے۔

جسمانی تصدیق اور کیسز کی منتقلی (قاعدہ 241 اور 244)

جہاں فزیکل ریکارڈ، مسلسل تصدیق یا خاص حالات کی ضرورت ہو، وہاں فیلڈ آپریشنز ونگ کے ذریعے جسمانی تصدیق کی جا سکے گی یا کیس کو متعلقہ ٹیکس اتھارٹی کو منتقل کیا جا سکے گا۔

کوالٹی کنٹرول، جرمانے اور ڈیفالٹ سرچارج (قاعدہ 242 اور 243)

تمام آڈٹ رپورٹس، نوٹسز اور اسیسمنٹ آرڈرز کو حتمی شکل دینے سے پہلے کوالٹی کنٹرول ریویو سے گزارا جائے گا۔ علاوہ ازیں، دفعہ 182 کے تحت جرمانوں اور دفعہ 205 کے تحت ڈیفالٹ سرچارج کی کارروائیاں بھی اسی فیس لیس عمل کے تحت مکمل کی جائیں گی۔

نتیجہ: ایف بی آر کے اس اقدام سے ٹیکس دہندگان اور ٹیکس افسران کے درمیان براہ راست رابطہ ختم ہو جائے گا، جس سے ٹیکس کے عمل میں جدید ٹیکنالوجی، غیر جانبداری، شفافیت اور اعلیٰ معیارِ کار کی پاسداری ممکن ہو سکے گی۔


Loading posts…

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top