
مکہ مکرمہ میں مسجد الحرام کے تقدس کی پامالی: سزائے موت پانے والے بنگلہ دیشی جوڑے کے حوالے سے نئی اور سنسنی خیز تفصیلات سامنے آئیں
مکہ مکرمہ: سعودی عرب کے مقدس شہر مکہ مکرمہ میں مسجد الحرام کے حدود میں انتہائی قبیح حرکت اور تقدس کی پامالی کے جرم میں سزائے موت پانے والے بنگلہ دیشی شہریوں کے حوالے سے اہم ترین اور اندرونی تفصیلات منظرِ عام پر آگئی ہیں۔ طائف میں قائم اسلامک دعوہ سینٹر کے معروف مبلغ عبدالرزاق مدنی نے اس دلخراش اور چونکا دینے والے واقعے کے پس منظر سے پردہ اٹھایا ہے۔
ملزمان کی شناخت اور پس منظر
رپورٹس کے مطابق سزائے موت پانے والے شہریوں میں نذر الاسلام اور سیتھی اختر شامل ہیں۔ نذر الاسلام 13 نومبر 2022ء کو ورک ویزے پر سعودی عرب آیا تھا۔ یہ دونوں بنگلہ دیشی شہری خانہ کعبہ میں صفائی کے فرائض انجام دینے والے معروف ‘بن لادن گروپ’ کے ملازم اور صفائی کے کارکن تھے۔ مکہ مکرمہ میں لڑکے کی رہائش ‘حی الاسکان’ جبکہ لڑکی کی رہائش ‘بطحا قریش’ کے علاقے میں تھی۔
جرم کا ارتکاب اور مقامِ وقوعہ
ملازمت کے دوران ان دونوں کے درمیان تعلقات قائم ہوئے۔ انہوں نے مئی 2023ء میں مسجد الحرام کے اندر اس قبیح فعل کا ارتکاب کیا۔ چونکہ وہ مسجد الحرام میں صفائی کے فرائض انجام دے رہے تھے، اس لیے وہ وہاں کے چپے چپے سے بخوبی واقف تھے۔
انہوں نے موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مسجد الحرام کے گیٹ نمبر 85 (باب سعید بن زید) اور گیٹ نمبر 87 (باب أم ہانی) کے درمیان اوپر جانے والی سیڑھیوں کے قریب واقع صفائی عملے کے عارضی دفاتر کو اس گھناؤنے فعل کے لیے استعمال کیا۔ یہ دفاتر مسجد الحرام کے اندر خانہ کعبہ سے چند میٹر کے فاصلے پر واقع ہیں اور براہِ راست مسجد الحرام کا ہی حصہ ہیں۔
طویل قانونی جنگ اور ٹرائل
یہ دونوں مجرم سال 2023ء سے لے کر 2026ء تک مسلسل جیل میں قید رہے۔ اس دوران انہیں مختلف عدالتوں میں پیش کیا گیا، جہاں طویل قانونی کارروائی اور شفاف ٹرائل کے دوران انہوں نے اپنے جرم کا برملا اعتراف بھی کیا۔
سعودی عدالتوں نے اس انتہائی مقدس مقام کے تقدس، حرمت اور عظمت کو پامال کرنے کے جرم کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے تعزیری سزا کے طور پر دونوں کو سزائے موت کا حکم سنایا۔ اعلیٰ عدالتوں سے توثیق اور قانونی تقاضے پورے ہونے کے بعد اس فیصلے پر عمل درآمد کر دیا گیا۔
سعودی حکام کی جانب سے اس کارروائی کے ذریعے یہ واضح کر دیا گیا ہے کہ حرمین شریفین کے تقدس، حرمت اور اسلامی اقدار کے خلاف ورزی کرنے والوں کے ساتھ قانون آہنی ہاتھوں سے نمٹے گا اور اس قسم کے مقدس مقامات پر کسی بھی قسم کی قانون شکنی یا بے حرمتی ناقابلِ برداشت ہے۔
