
امریکہ کے نائب صدر جی ڈی وینس نے کہا کہ صدر ٹرمپ اور رہبر اعلیٰ خامنہ ای کے براہ راست رابطے کی کمی مذاکرات کو مشکل بنا رہی ہے۔
امریکہ کے نائب صدر جی ڈی وینس نے ایک انٹرویو میں کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای کے درمیان براہ راست رابطہ نہ ہونے سے بات چیت مشکل ہو جاتی ہے۔ ان کے مطابق یہ کمی دونوں ملکوں کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن رہی ہے۔
وینس کا کہنا تھا کہ ایسے دور میں جب کشیدگی پہلے ہی زیادہ ہے، براہ راست گفتگو کی عدم موجودگی کسی بھی پیش رفت کو سست کر دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اعلیٰ سطح کے فیصلے اسی وقت ممکن ہوتے ہیں جب دونوں رہنما ایک دوسرے سے براہ راست بات کریں۔
ایران اور امریکہ کے درمیان کئی اہم معاملات پر اختلافات موجود ہیں۔ ان میں علاقائی صورت حال اور ایٹمی پروگرام شامل ہیں۔ وینس نے امید ظاہر کی کہ اگر مستقبل میں دونوں ملک رابطے کے بہتر راستے نکال سکیں تو مذاکرات آگے بڑھ سکتے ہیں۔
فی الحال کوئی اشارہ نہیں کہ دونوں ملک براہ راست بات چیت کی طرف بڑھ رہے ہیں، لیکن وینس کے بیان نے اس بحث کو ایک بار پھر سامنے لا دیا ہے۔
