غربت سے ایمرجنگ ایشیا کپ تک: نوجوان کرکٹر معاذ صداقت کی جذباتی کہانی اور محمد رضوان کی مدد | Moaz Sadaqat Story

غربت سے ایمرجنگ ایشیا کپ تک: نوجوان اوپنر معاذ صداقت کی جذباتی کہانی

غربت سے ایمرجنگ ایشیا کپ تک: نوجوان اوپنر معاذ صداقت کی پرامید اور جذباتی کہانی

وی ایس پرو نیوز (VSPro News) | زمرہ: کرکٹ / اسپورٹس سٹوریز

محنت، صبر اور عزم انسان کو کہاں سے کہاں پہنچا دیتے ہیں، اس کی ایک زندہ مثال قومی کرکٹ ٹیم کے نوجوان اوپنر معاذ صداقت کی کہانی ہے۔ حال ہی میں ایک انٹرویو کے دوران جب معاذ نے اپنے ماضی کے کٹھن دنوں اور جدوجہد کا ذکر کیا تو وہ جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور آبدیدہ ہو گئے۔ ان کے یہ الفاظ ہر سننے والے کی آنکھیں نم کرنے کے لیے کافی ہیں۔

مشکلات سے بھرپور بچپن اور والد کی محنت

معاذ صداقت نے انکشاف کیا کہ ان کے گھر کے حالات اتنے خراب تھے کہ اس کا علم صرف ان کو اور اللہ کی ذات کو تھا۔ ان کے والد سیمنٹ بلاک بنانے والوں کے ساتھ مزدوری کیا کرتے تھے۔ غربت اس حد تک تھی کہ معاذ کے پاس اپنے لیے ایک اچھا بلا (بیট) خریدنے کے بھی پیسے نہیں تھے۔ ایسے کٹھن حالات میں بھی ان کی والدہ نے ان کا حوصلہ پست نہیں ہونے دیا اور ہمیشہ یہ تسلی دیتی رہیں:

“اب ہمارے برے دن چل رہے ہیں، اچھے دن بھی آئیں گے!”

محمد رضوان کا مسیحا بننا

ہر مشکل وقت کے بعد آسانی آتی ہے، اور معاذ کی زندگی میں وہ روشنی پاکستان کے اسٹار کرکٹر محمد رضوان کی شکل میں آئی۔ معاذ کے مطابق، محمد رضوان کے ان پر احسانات ایک پہاڑ جتنے بڑے ہیں۔

  • معاذ جب محمد رضوان سے ملنے گئے تو وہ حال ہی میں افریقہ کے دورے سے گھر واپس آئے تھے اور معاذ کو ذاتی طور پر نہیں جانتے تھے۔
  • معاذ نے اپنی بیٹنگ کی ویڈیوز محمد رضوان کو دکھائیں، جسے دیکھ کر وہ بہت خوش ہوئے۔
  • محمد رضوان نے نہ صرف ان کی حوصلہ افزائی کی بلکہ انہیں پورا کرکٹ کٹ خریدنے کے لیے نقد 60 ہزار روپے دیے تاکہ وہ اپنے لیے ایک اچھا بلا اور جوتے خرید سکیں۔
  • رضوان نے اپنا پرسنل نمبر بھی معاذ کو دیا اور کہا کہ جب بھی کسی چیز کی ضرورت ہو تو بلا جھجھک میسج کرنا۔

قسمت کا پلٹا اور پی سی بی کی کال

مدد اور اپنی انتھک محنت کے بعد معاذ کی زندگی میں وہ خوبصورت لمحہ بھی آ گیا جس کا وہ انتظار کر رہے تھے۔ ایک دن انہیں پاکستان کرکٹ بورڈ (PCB) کی جانب سے کال موصول ہوئی کہ انہیں ایمرجنگ ایشیا کپ کے لیے قومی اسکواڈ میں شامل کر لیا گیا ہے۔ انٹرویو کے آخر میں جذباتی ہوتے ہوئے معاذ نے کہا کہ وہ خود کو دنیا کا سب سے خوش قسمت انسان سمجھتے ہیں کہ جب ان کا اچھا وقت آیا تو ان کے والدین اس کامیابی کو دیکھنے کے لیے زندہ ہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top