سزائے موت کی ناکام کوشش کے بعد زندہ بچ جانے والی قیدی کرسٹا پائیک ہوش میں آ گئیں | Christa Pike Update

امریکہ میں سزائے موت کی ناکام کوشش: کرسٹا پائیک ہوش میں آ گئیں

امریکہ میں سزائے موت کی ناکام کوشش: زہریلے انجیکشن سے بچ جانے والی کرسٹا پائیک ہوش میں آ گئیں

شائع کردہ: اکتوبر 2026 | زمرہ: بین الاقوامی خبریں / انسانی حقوق

امریکہ کی ریاست ٹینیسی میں گذشتہ ہفتے سزائے موت پر عملدرآمد کی ایک انتہائی غیر معمولی اور ناکام کوشش کے دوران معجزانہ طور پر زندہ بچ جانے والی خاتون قیدی کرسٹا پائیک ہوش میں آ گئی ہیں اور انھوں نے بات چیت کا آغاز بھی کر دیا ہے۔

50 سالہ کرسٹا کے وکلا کے مطابق، وہ بدستور ہسپتال کے انتہائی نگہداشت کے یونٹ (ICU) میں زیر علاج ہیں۔ ہسپتال کے بستر پر انھیں سخت سکیورٹی کے تحت ہتھکڑیوں اور بیڑیوں میں جکڑ کر رکھا گیا ہے تاکہ قانونی تقاضے پورے کیے جا سکیں۔

واقعے کا پس منظر اور پس پردہ حقائق

کرسٹا پائیک کو سنہ 1995 میں اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ مل کر کولین سلمر نامی خاتون کو بیدردی سے قتل کرنے کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔ گذشتہ بدھ (30 ستمبر) کو انھیں زہریلے انجیکشن کے ذریعے سزائے موت دینے کی کوشش کی گئی تھی، جو تکنیکی اور طبی پیچیدگیوں کے باعث مسلسل دو بار ناکام ہو گئی۔

اہم نکتہ: زہریلے انجیکشن کے ذریعے دی جانے والی سزائے موت سے زندہ بچ جانے والی تاریخ کی واحد انسان کرسٹا پائیک کو مانا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق دو خوراکیں لگنے کے باوجود ان کی یہ صحتیابی ایک حیرت انگیز اور غیر معمولی واقعہ ہے۔

طبی عملے کی مداخلت اور ماہرین کی حیرت

ناکامی کے بعد انھیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں طبی عملے نے بڑی جدوجہد کے بعد اُن کے جسم سے انجیکٹ کیا گیا زہریلا کیمیکل خارج کیا۔ وہ کئی روز تک گہری بے ہوشی کے عالم میں رہیں، لیکن اب ہوش میں آنے کے بعد ماہرینِ قانون اور طبی عملہ دنگ رہ گیا ہے۔

فورڈہم لا سکول سے منسلک کرمنالوجسٹ اور پروفیسر ڈیبورا ڈینو نے اس صورتحال پر شدید حیرت کا اظہار کرتے ہوئے بتایا:

“وہ اس بات پر انتہائی حیران ہیں کہ پائیک نہ صرف ہوش میں ہیں بلکہ باقاعدہ گفتگو بھی کر رہی ہیں۔ اس سے قبل تاریخ میں سات ایسے واقعات ضرور پیش آئے ہیں جن میں قیدی سزائے موت دینے کی کوشش سے بچ گئے تھے، لیکن ان تمام پچھلے کیسز میں جیل کے عملے کو قیدیوں کی رگوں میں زہریلا مادہ داخل کرنے میں کامیابی نہیں ملی تھی جبکہ اس کیس میں ایسا ہو چکا تھا۔”

آئندہ کا لائحہ عمل

ان کے وکلا کا کہنا ہے کہ کرسٹا پائیک کی طویل مدتی طبی صورتحال کے حوالے سے فی الحال حتمی طور پر کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔ تاہم، ڈاکٹروں کا تخمینہ ہے کہ انھیں مکمل صحت یابی کے لیے ایک طویل عرصہ درکار ہوگا۔ اس منفرد قانونی اور طبی معاملے نے امریکی نظامِ انصاف میں ایک نئی بحث چھوٹی کر دی ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top