
اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو کا نیا مشرق وسطیٰ نقشہ: پاکستان اور سعودی عرب “گریٹر اسرائیل” کی راہ میں بڑی رکاوٹ قرار
عالمی سیاست اور مشرق وسطیٰ کی بدلتی ہوئی جیو پولیٹیکل صورتحال میں ایک نیا موڑ اس وقت سامنے آیا جب اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نتن یاہو کی جانب سے پیش کیے گئے خطے کے ایک نئے اسٹریٹجک نقشے نے دنیا بھر کی توجہ اپنی طرف مبذول करवा لی ہے۔ اس نقشے اور اس کے پس منظر میں چھپے تجزیوں نے خطے کی آئندہ صف بندیوں اور ممکنہ جنگی و سفارتی چیلنجز کو بے نقاب کر دیا ہے۔
خطے کی تین بڑی صف بندیاں (Blaxes)
جرمن تھنک ٹینک کی رپورٹس اور عالمی سطح پر زیرِ بحث آنے والے اس نقشے میں مشرق وسطیٰ کو بنیادی طور پر تین حصوں یا بلاکس میں تقسیم کیا گیا ہے:
- 🔵 ہیکساگون الائنس (Hexagon Alliance): اس کا مرکزی محور اسرائیل اور متحدہ عرب امارات ہیں۔ اس دائرے میں یونان، قبرص، ایتھوپیا، صومالی لینڈ، لیبیا کا بن غازی خطہ اور سوڈان کی آر ایس ایف (RSF) جیسی فورسز کو شامل دکھایا گیا ہے۔
- 🟢 سنی ڈائمنڈ الائنس (Sunni Diamond): اس نقشے میں پاکستان، سعودی عرب، ترکی اور مصر کو ایک طاقتور ہندساتی شکل یعنی “سنی ڈائمنڈ” کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
- 🟣 ایکسس آف ریزسٹنس (Axis of Resistance): یہ بلاک ایران اور اس کے اتحادی عسکری و سیاسی دھڑوں (جیسے حماس اور حزب اللہ) پر مشتمل ہے۔
نتن یاہو کے عزائم اور “گریٹر اسرائیل” کا خواب
اسرائیلی قیادت کے عزائم کا محور مسلم دنیا کو متفرق حصوں میں بانٹ کر “گریٹر اسرائیل” کی بالادستی قائم کرنا ہے۔ صیہونی اسٹریٹجی کے تحت بعض اتحادیوں کو تو قریب سمجھا جاتا ہے، تاہم پاکستان، سعودی عرب اور ترکی پر مشتمل “سنی ڈائمنڈ” بلاک کو تل ابیب کے خوابوں کی راہ میں ایک سب سے بڑی اور مضبوط پوشیدہ رکاوٹ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
پاکستان اور سعودی عرب کا مشترکہ دفاعی کردار: ایک مضبوط حصار
اس نقشے اور علاقائی منظرنامے کے تناظر میں، پاکستان اور سعودی عرب کا اسٹریٹجک و دفاعی گٹھ جوڑ عالمِ اسلام کے لیے ڈھال کی حیثیت رکھتا ہے:
- دفاعی معاہدے اور عسکری معاونت: پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دہائیوں پرانی دفاعی شراکت داری موجود ہے۔
- پاور بیلنس (Counter-balance): پاکستان کی ایٹمی صلاحیت اور عسکری مہارت کے ساتھ ساتھ سعودی عرب کا معاشی اثر و رسوخ مل کر خطے میں کسی بھی یکطرفہ جارحیت کو روکنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
- آزاد خارجہ پالیسی: دونوں برادر ممالک نے واضح کیا ہے کہ فلسطینیوں کے حقوق اور آزاد ریاست کے قیام کے بغیر اسرائیل کو تسلیم کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
