
ایران کا بڑا دفاعی اعلان، مقامی ساختہ بھاری جنگی طیارہ 2027 میں پرواز کرے گا
تہران: ایران کی دفاعی صلاحیتوں میں ایک اور اہم سنگِ میل عبور کرنے کی تیاری مکمل کر لی گئی ہے۔ نئے ایرانی وزیر دفاع مہرداد اخلاقی نے اعلان کیا ہے کہ ایران کا مقامی طور پر تیار کردہ پہلا بھاری جنگی طیارہ آئندہ سال 2027 میں اپنی پہلی آزمائشی پرواز کرے گا۔
وزارتِ دفاع کے فضائی صنعت کے ادارے میں تیاری
ایرانی وزیر دفاع کے مطابق یہ جدید اور بھاری جنگی طیارہ وزارتِ دفاع کے ماتحت کام کرنے والے فضائی صنعت کے ادارے میں انتہائی رازداری اور مہارت کے ساتھ تیار کیا جا رہا ہے۔ منصوبے کے طے شدہ شیڈول کے مطابق، طیارے کو فضا میں اتارنے سے پہلے اس کے تمام ضروری زمینی تجربات (Ground Tests) مکمل کیے جائیں گے، جن کی کامیابی کے بعد اسے باضابطہ طور پر آزمائشی پرواز (Test Flight) کے مرحلے میں داخل کیا جائے گا۔
دفاعی خود کفالت کی جانب اہم قدم
اگرچہ ایران ماضی میں بھی اپنی دفاعی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مقامی سطح پر ہلکے اور درمیانے درجے کے جنگی طیارے تیار کر چکا ہے، تاہم ایک “بھاری لڑاکا طیارے” (Heavy Fighter Jet) کی تیاری کو ملکی دفاعی اور عسکری صنعت کے لیے ایک تاریخی اور انتہائی اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی پابندیوں کے باوجود ایرانی انجینئرز کی یہ کامیابی دفاعی خود کفالت کے عزم کو ظاہر کرتی ہے۔
تکنیکی تفصیلات تاحال صیغہ راز میں
حکام کی جانب سے فی الحال اس نئے جنگی طیارے کی رفتار، جنگی صلاحیتوں، اس میں نصب ہونے والے جدید ہتھیاروں، ریڈار سسٹم اور دیگر تکنیکی خصوصیات کے حوالے سے تفصیلات میڈیا یا عوام کے سامنے جاری نہیں کی گئیں۔ توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ طیارے کی تکمیل کے قریب اس کے کچھ خدوخال ظاہر کیے جائیں گے۔
دفاعی ماہرین کی آراء
عسکری اور دفاعی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران اپنے اس اہم منصوبے میں کامیاب ہو جاتا ہے، تو یہ نہ صرف ایرانی فضائیہ کی اسٹریٹیجک خودمختاری کو کئی گنا بڑھا دے گا بلکہ خطے میں فضائی قوت کے توازن پر بھی اس کے گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ ماہرین کے نزدیک یہ قدم ملکی دفاعی ٹیکنالوجی اور ایرو اسپیس انجینئرنگ کے شعبے میں ایران کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
