
کیا آپ جانتے ہیں؟ — دنیا کا وہ پراسرار مقام جہاں دوپہر کے وقت بھی انسان کا سایہ غائب ہو جاتا ہے!
تحریر: VSPro News ڈیسک | دنیا کے عجیب و غریب حقائق
کیا آپ کے وہم و گمان میں بھی یہ بات آ سکتی ہے کہ دنیا میں ایک ایسی جگہ بھی موجود ہے جہاں عین دوپہر کے وقت، جب سورج آسمان پر پوری آب و تاب سے چمک رہا ہو، تب بھی زمین پر کسی انسان یا چیز کا کوئی سایہ دکھائی نہ دے؟ بظاہر یہ کسی جادو یا فکشن کہانی کی طرح لگتا ہے، لیکن یہ فلکیات اور سائنس کا ایک ناقابلِ تردید حقیقت پر مبنی مظہر ہے۔
زیرو شیڈو ڈے (Zero Shadow Day) کیا ہے؟
عام طور پر دنیا کے ہر حصے میں زمین کے زاویے اور سورج کی پوزیشن کی وجہ سے ہر چیز کا سایہ بنتا ہے۔ لیکن خط استواء (Equator) کے اردگرد اور ٹراپک آف کینسر (Tropic of Cancer) کے درمیان واقع علاقوں میں سال میں دو بار ایسا وقت آتا ہے جب سورج زمین کے بالکل اوپر (عموداً یا 90 ڈگری کے زاویے پر) آ جاتا ہے۔ اس خاص دن اور وقت کو “زیرو شیڈو ڈے” کہا جاتا ہے۔
اس کے پیچھے سائنسی توجیہہ کیا ہے؟
سائنس دانوں کے مطابق، جب سورج آسمان پر بالکل مبصر یا زمین پر موجود کسی شے کے عین سر کے اوپر (Zenith) پہنچ جاتا ہے، تو سورج کی شعاعیں زمین پر بالکل سیدھی پڑتی ہیں۔ اس کی وجہ سے کسی بھی عمارت، درخت یا انسان کا سایہ ادھر ادھر پھیلنے کے بجائے بالکل اس کے نیچے سمٹ جاتا ہے، جس سے بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے انسان کے نیچے سے اس کا سایہ بالکل غائب ہو چکا ہو۔
یہ مظہر کہاں اور کب دیکھا جاتا ہے؟
یہ فلکیاتی مظہر پاکستان، بھارت اور دیگر خط استواء کے قریب واقع ممالک کے مختلف شہروں میں سال میں مخصوص تاریخوں پر پیش آتا ہے۔ فلکیات کے شوقین اور سائنسی ادارے اس دن کو خاص طور پر مناتے ہیں اور کھمبوں یا سیدھی چیزوں کے سائے غائب ہونے کے مناظر کی عکاسی کرتے ہیں۔ یہ قدرت کے انوکھے قوانین میں سے ایک ہے۔
