
امریکی شہریوں سے 35 ارب روپے کا فراڈ: مرکزی ملزم فہیم اکرم گرفتار، ایک لاکھ ڈالر انعام مقرر تھا
امریکی شہریوں سے اربوں روپے کا فراڈ کرنے والے نیٹ ورک کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے این سی سی آئی اے (NCCIA) نے مرکزی ملزم فہیم اکرم کو گرفتار کر لیا ہے۔ ملزم کی گرفتاری پر امریکی حکام کی جانب سے ایک لاکھ ڈالر کا انعام مقرر کیا گیا تھا۔ اس حوالے سے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایڈیشنل ڈائریکٹر لاہور زون عاطف امیر نے اہم انکشافات کیے۔
فراڈ کا مکروہ طریقہ کار اور مالیت
ایڈیشنل ڈائریکٹر عاطف امیر نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ ملزم اگست 2023 سے ستمبر 2026 تک LabelsBank کے نام سے ایک ویب سائٹ چلا رہا تھا۔ اس ویب سائٹ کے ذریعے پانچ ملین سے زائد جعلی امریکی ڈاک ٹکٹ فروخت کیے گئے:
- فی ٹکٹ دو امریکی ڈالر وصول کیے گئے۔
- مجموعی مالیت پاکستانی کرنسی میں تقریباً 35 ارب روپے بنتی ہے۔
تحقیقات کے دوران اس بات کا انکشاف بھی ہوا ہے کہ اس سیاہ کاروبار کے لیے مجموعی طور پر 16 بینک اکاؤنٹس استعمال کیے گئے، جن میں ملزم کے اپنے علاوہ اس کے بھائی، اہلیہ، بہن اور خالہ کے اکاؤنٹس بھی شامل ہیں۔
جدید ٹیکنالوجی کا استعمال اور چھاپہ مار کارروائیاں
این سی سی آئی اے نے اس سنگین کیس میں ایف آئی آر نمبر 246/2026 درج کر لی ہے۔ کیس کی تہه تک پہنچنے کے لیے پنجاب، اسلام آباد اور سندھ میں آٹھ خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئیں، جنہوں نے 35 مختلف مقامات پر چھاپے مار کر 47 افراد سے پوچھ گچھ کی۔
تفتیشی ٹیموں نے مصنوعی ذہانت (AI) سمیت جدید ترین ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے درج ذیل کارروائیاں کیں:
- 122 کال ڈیٹا ریکارڈز کا تجزیہ کیا۔
- 50 آئی ایم ای آئی (IMEI) ٹریکنگ رپورٹس کی جانچ کی۔
- 120 کیمروں کی ویڈیو اور آڈیو ریکارڈنگ کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔
- ملزم کا سراغ لگانے کے لیے مسلسل 10 روز تک کامیاب لوکیٹر آپریشن بھی جاری رکھا گیا۔
مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (CIT) تشکیل
کیس کی مؤثر، جامع اور شفاف تحقیقات کو یقینی بنانے کے لیے ایڈیشنل ڈائریکٹر این سی سی آئی اے لاہور زون عاطف امیر کی ہدایت پر ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی ہے، جس میں درج ذیل افسران شامل ہیں:
- ڈپٹی ڈائریکٹر وقاص سعید
- ڈپٹی ڈائریکٹر حسن
- ایس ایچ او نجم باجوہ
- سب انسپکٹر نبیل
- سب انسپکٹر تنویر
یہ مشترکہ ٹیم جعلی ڈاک ٹکٹوں کی آن لائن فروخت، تمام مالی لین دین اور اس نیٹ ورک سے جڑے دیگر سہولت کاروں اور کرداروں کی مزید گہرائی سے چھان بین کرے گی تاکہ ملوث تمام عناصر کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جا سکےء۔
