
ٹرمپ کا چونکا دینے والا خیال، کیا امریکہ واقعی گرین لینڈ خرید سکتا ہے؟
وائٹ ہاؤس کی جانب سے ایک بار پھر ایسا بیان سامنے آیا ہے جس نے عالمی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ گرین لینڈ کو خریدنے کے امکان پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔ یہ بات خود وائٹ ہاؤس نے تصدیق کے ساتھ کہی ہے۔
گرین لینڈ، جو رقبے کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا جزیرہ ہے، ڈنمارک کے زیر انتظام ہے اور اس کی جغرافیائی حیثیت اسے عالمی طاقتوں کے لیے انتہائی اہم بناتی ہے۔ آرکٹک خطے میں روس اور چین کی بڑھتی سرگرمیوں کے باعث امریکہ اسے اپنی قومی سلامتی سے جوڑ کر دیکھ رہا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق ٹرمپ اور ان کی قومی سلامتی ٹیم مختلف آپشنز پر بات کر رہی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ گرین لینڈ پر امریکی اثر و رسوخ مستقبل میں اسٹریٹیجک برتری دے سکتا ہے، خاص طور پر فوجی اور تجارتی حوالے سے۔
تاہم اس بیان پر ڈنمارک اور گرین لینڈ کی حکومت کا ردعمل سخت رہا ہے۔ دونوں نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ گرین لینڈ فروخت کے لیے نہیں ہے اور اس کے مستقبل کا فیصلہ صرف وہاں کے عوام کریں گے۔ یورپی رہنماؤں نے بھی اس خیال پر تشویش ظاہر کی ہے اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں جب ٹرمپ نے گرین لینڈ خریدنے کا خیال پیش کیا ہو۔ اس سے قبل بھی وہ ایسا عندیہ دے چکے ہیں، مگر اس بار وائٹ ہاؤس کی براہ راست تصدیق نے اس معاملے کو دوبارہ عالمی بحث کا مرکز بنا دیا ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا یہ محض ایک سیاسی بیان ہے یا واقعی امریکہ کوئی بڑا قدم اٹھانے جا رہا ہے۔ فی الحال کوئی باضابطہ پیشکش یا معاہدہ سامنے نہیں آیا، مگر یہ بیان آنے والے دنوں میں امریکہ اور یورپ کے تعلقات پر اثر ڈال سکتا ہے۔
دنیا کی نظریں اب اس بات پر ہیں کہ یہ خیال کہاں تک جاتا ہے، اور آیا گرین لینڈ واقعی عالمی طاقتوں کے درمیان نئی کشمکش کا میدان بننے جا رہا ہے یا نہیں۔
مزید پڑھیں

Pingback: ایران میری ریڈ لائن کو عبور کرنا شروع کر رہا ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ -