
جب بھی امریکا کسی ملک کے سربراہ کے خلاف سخت قدم اٹھانے کی خبر سامنے آتی ہے تو دنیا چونک جاتی ہے۔لیکن یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ کیا یہ سب پہلی بار ہو رہا ہے؟تاریخ بتاتی ہے کہ امریکا ماضی میں کئی عالمی رہنماؤں کے خلاف براہ راست یا بالواسطہ کارروائیاں کر چکا ہے۔کسی کو گرفتار کیا گیا، کسی کو اقتدار سے ہٹایا گیا، اور کسی کے انجام پر جنگ نے مہر لگا دی۔
نکولس مادورو وینزویلا
وینزویلا کے صدر نکولس مادورو طویل عرصے سے امریکا کی مخالفت اور پابندیوں کی زد میں ہیں۔
امریکا ان پر منشیات اسمگلنگ، بدعنوانی، اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کرتا رہا ہے۔
کچھ مواقع پر میڈیا اور سوشل پلیٹ فارمز پر یہ دعوے بھی سامنے آئے کہ امریکا مادورو کو گرفتار کرنے یا اقتدار سے ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے۔
تاہم اب تک مادورو براہ راست امریکی حراست میں نہیں آئے۔
اس کے باوجود امریکا نے مادورو کی گرفتاری پر بھاری انعام کا اعلان کیا،
جو اس بات کی علامت ہے کہ واشنگٹن انہیں ایک بڑے ہدف کے طور پر دیکھتا ہے۔
کراکس کی رات غیر معمولی طور پر خاموش تھی۔صدارتی محل کے اندر صدر نکولس مادورو ایک آخری میٹنگ ختم کر رہے تھے۔ اچانک بجلی بند ہو گئی۔ چند لمحوں بعد فضا میں ہیلی کاپٹروں کی گونج سنائی دی، جس سے محل کی کھڑکیاں لرز اٹھیں۔امریکی فوج کے کمانڈوز تیزی سے حرکت میں آئے۔ کچھ چھت سے اترے، کچھ پچھلے دروازوں سے داخل ہوئے۔ نہ کوئی وارننگ، نہ کوئی اعلان۔ صرف رفتار اور خاموشی۔محل کی سیکیورٹی چند منٹوں میں بے اثر ہو گئی۔ رابطے کے تمام نظام بند ہو گئے۔کارروائی مختصر اور منظم تھی۔صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کو محل کے اندر ایک محفوظ کمرے سے باہر نکالا گیا۔ مادورو نے بس ایک سوال کیا۔“کیا یہ سب ختم ہو گیا ہے؟”کوئی جواب نہیں آیا۔سورج نکلنے سے پہلے انہیں ہیلی کاپٹر کے ذریعے ملک سے باہر لے جایا گیا۔ صبح ہوتے ہی صدارتی محل خالی تھا، اور دنیا ایک نئی خبر کے ساتھ جاگ چکی تھی۔کچھ نے اسے انصاف کہا۔کچھ نے اسے حملہ کہا۔
مانوئل نوریگا، پاناما
1989 میں امریکا نے پاناما پر فوجی حملہ کیا، جسے آپریشن جسٹ کاز کہا گیا۔
اس وقت پاناما کے حکمران مانوئل نوریگا تھے۔
امریکا نے حملے کے بعد نوریگا کو گرفتار کر کے امریکا منتقل کیا،
جہاں ان پر منشیات اسمگلنگ کے مقدمات چلے اور انہیں سزا سنائی گئی۔
یہ امریکا کی جانب سے کسی غیر ملکی سربراہ کی براہ راست گرفتاری کی واضح مثال ہے۔
صدام حسین، عراق
2003 میں امریکا کی قیادت میں عراق پر حملہ ہوا۔
چند ماہ بعد سابق عراقی صدر صدام حسین کو ایک خفیہ ٹھکانے سے گرفتار کیا گیا۔
اگرچہ بعد میں مقدمہ عراقی عدالت میں چلا،
لیکن صدام کی گرفتاری امریکی فوجی کارروائی کے بغیر ممکن نہ تھی۔
2006
میں انہیں پھانسی دے دی گئی۔
معمر قذافی، لیبیا
2011 میں لیبیا میں بغاوت شروع ہوئی۔
نیٹو نے امریکا کی قیادت میں لیبیا پر فضائی حملے کیے۔
ان حملوں کے نتیجے میں قذافی کی حکومت کمزور ہو گئی۔
اکتوبر 2011 میں معمر قذافی کو باغیوں نے پکڑا اور قتل کر دیا۔
اگرچہ امریکا نے خود انہیں گرفتار نہیں کیا،
لیکن فوجی مداخلت نے ان کے انجام میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔
ژاں بیٹران آرسٹید، ہیٹی
2004 میں ہیٹی شدید سیاسی بحران کا شکار تھا۔
صدر ژاں بیٹران آرسٹید کو امریکی فوجی طیارے کے ذریعے ملک سے باہر لے جایا گیا۔
امریکا کے مطابق یہ قدم ان کی حفاظت کے لیے تھا،
جبکہ آرسٹید نے بعد میں کہا کہ انہیں زبردستی ہٹایا گیا۔
یہ واقعہ آج بھی متنازع مانا جاتا ہے۔
جوآن اورلینڈو ہرنانڈیز، ہونڈوراس
ہونڈوراس کے سابق صدر ہرنانڈیز کو 2022 میں امریکا کے حوالے کیا گیا۔
ان پر منشیات اسمگلنگ اور کرپشن کے الزامات تھے۔
یہ کارروائی فوجی حملے کے بغیر ہوئی،
لیکن امریکی قانونی دباؤ اس میں نمایاں تھا۔
نتیجہ
تمام مثالیں ایک بات واضح کرتی ہیں۔
امریکا صرف بیانات تک محدود نہیں رہتا۔
کہیں پابندیاں،
کہیں جنگ،
کہیں گرفتاری،
اور کہیں حکومت کا خاتمہ۔
اسی لیے جب وینزویلا یا کسی اور ملک کے صدر کے خلاف امریکی قدم کی بات ہوتی ہے،
دنیا اسے ایک خبر نہیں بلکہ تاریخ کے تسلسل کے طور پر دیکھتی ہے۔

Pingback: نائب امریکی صدر جے ڈی وینس کے گھر پر حملہ، نامعلوم شخص گرفتار -
Pingback: کیا امریکہ واقعی گرین لینڈ خریدنے جا رہا ہے؟ -