ایران بحران: احتجاج، جھڑپیں اور سخت حکومتی اقدامات

ملک گیر مظاہرے

تاریخ: ہفتہ، 10 جنوری 2026

ایران میں عوامی احتجاج دوسرے ہفتے میں داخل ہو چکا ہے اور صورتحال انتہائی کشیدہ ہے۔ مظاہرے مہنگائی، اقتصادی مشکلات اور سماجی دباؤ کے خلاف شروع ہوئے، لیکن اب ان کا دائرہ کار سیاسی مطالبات تک پہنچ گیا ہے۔ ملک کے کئی شہروں میں شہری سڑکوں پر نکلے ہوئے ہیں اور سیکیورٹی فورسز کے ساتھ تصادم جاری ہے۔

ملک گیر مظاہرے اور جھڑپیں

احتجاج اب تہران سمیت دیگر بڑے شہروں تک پھیل چکا ہے۔ حکومتی رپورٹوں کے مطابق، مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں میں تہران میں ہلاکتوں کی تعداد دو سو سے زائد ہے جبکہ دیگر شہروں میں بھی متعدد ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔ مظاہرین نے اپنے مطالبات کے اظہار کے لیے پرامن اور بعض مقامات پر پرتشدد احتجاج بھی کیا۔

مواصلاتی پابندیاں

حکومت نے مظاہروں کی نگرانی اور تنظیم پر قابو پانے کے لیے ملک کے مختلف حصوں میں انٹرنیٹ اور موبائل نیٹ ورک محدود کر دیے ہیں۔ اس سے مظاہروں کی کوریج اور مظاہرین کے رابطے میں مشکلات پیدا ہو گئی ہیں۔

گرفتاریاں اور سیکیورٹی اقدامات

سیکیورٹی اداروں نے مظاہروں میں حصہ لینے والے متعدد افراد کو حراست میں لیا ہے۔ بعض رپورٹس میں غیر ملکی مداخلت کے شبے کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ حکومت نے سخت انتباہ جاری کیا ہے اور کہا ہے کہ مظاہروں کو روکنے کے لیے مزید اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔

بین الاقوامی ردعمل

عالمی رہنماؤں نے ایران میں مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ متعدد ممالک نے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مظاہرین کے حقوق اور تحفظ کو یقینی بنائے اور تحمل کا مظاہرہ کرے۔

پاکستانی شہریوں کے لیے ہدایات

پاکستان کے دفتر خارجہ نے اپنے شہریوں کے لیے ہدایت جاری کی ہے کہ ایران کا غیر ضروری سفر مؤخر کیا جائے۔ وہاں موجود شہریوں کو مشنز سے رابطے میں رہنے، اپنی نقل و حرکت محدود رکھنے اور حالات پر نظر رکھنے کا کہا گیا ہے۔ تہران، زاہدان اور مشہد میں موجود پاکستانی سفارت خانوں کے رابطہ نمبر شہریوں کے لیے جاری کیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری مدد حاصل کی جا سکے۔

Loading posts…

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top