واشنگٹن/تہران: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایران کے جوہری پروگرام پر عالمی تشویش کے درمیان، واشنگٹن سے انتہائی حساس اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ باوثوق ذرائع کے مطابق انتظامیہ ایک ایسے انتہائی خفیہ اور پرخطر آپریشن پر غور کر رہی ہے جس کے تحت امریکی اسپیشل آپریشنز فورسز کو ایران کے اندر بھیج کر وہاں موجود افزودہ یورینیم کے ذخائر کو تحویل میں لیا جا سکے یا انہیں ناکارہ بنایا جا سکے۔

اسرائیل کا دباؤ اور ممکنہ کارروائی کی وجوہات
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ سنگین غور و خوض اس وقت شروع ہوا جب اسرائیل کی جانب سے امریکہ پر دباؤ بڑھایا گیا کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کے قریب پہنچ چکا ہے۔ عالمی توانائی ایجنسی (IAEA) کی حالیہ رپورٹس نے بھی اس تشویش کو تقویت دی ہے، جن میں کہا گیا ہے کہ ایران نے یورینیم کو 60 فیصد تک افزودہ کر لیا ہے، جو کہ ہتھیاروں کے گریڈ (90 فیصد) کے انتہائی قریب ہے۔
امریکی حکام کا خیال ہے کہ اگر ایران جوہری دہلیز عبور کر لیتا ہے تو خطے میں طاقت کا توازن مستقل طور پر بدل جائے گا، اور سعودی عرب سمیت دیگر ممالک بھی جوہری دوڑ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ سفارتی کوششیں بارآور ثابت نہ ہونے کی صورت میں، یہ فوجی آپشن میز پر رکھا گیا ہے۔
آپریشن کی نوعیت اور خطرات
اگرچہ اس ممکنہ آپریشن کی تفصیلات انتہائی خفیہ ہیں، تاہم فوجی ماہرین کا قیاس ہے کہ یہ ایک “سرجیکل اسٹرائیک” کی طرح کا گرینڈ آپریشن ہو سکتا ہے۔ اس میں امریکی نیوی سیلز (Navy SEALs) یا ڈیلٹا فورس (Delta Force) جیسے ایلیٹ یونٹس حصہ لے سکتے ہیں۔
ان فورسز کا ہدف ایران کی زیر زمین جوہری تنصیبات، جیسے کہ نٹانز (Natanz) یا فوردو (Fordow) ہو سکتی ہیں، جہاں یورینیم افزودہ کیا جاتا ہے۔
تاہم، اس طرح کے آپریشن میں بے پناہ خطرات موجود ہیں:
- شدید ایرانی ردعمل: ایران اس کارروائی کو براہ راست جنگ کا اعلان سمجھے گا۔ وہ خلیج فارس میں امریکی بحری جہازوں، علاقائی اتحادیوں (جیسے اسرائیل اور سعودی عرب) پر میزائل حملے کر سکتا ہے، اور آبنائے ہرمز کو بند کر کے عالمی تیل کی سپلائی لائن کاٹ سکتا ہے۔
- علاقائی جنگ کا خدشہ: ایرانی پاسداران انقلاب (IRGC) کے پاس نہ صرف میزائل ٹیکنالوجی ہے بلکہ وہ خطے میں موجود اپنی پراکسی فورسز (حزب اللہ، حوثی، اور عراقی ملیشیا) کو متحرک کر کے پوری مشرق وسطیٰ کو آگ کی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔
- آپریشن کی کامیابی کی ضمانت نہیں: ایرانی جوہری تنصیبات پہاڑوں کے اندر گہرائی میں واقع ہیں اور ان کی حفاظت انتہائی سخت ہے۔ امریکی فورسز کے لیے وہاں داخل ہونا، یورینیم کو قبضے میں لینا اور بحفاظت واپس نکلنا ایک لاجسٹک ڈراؤنا خواب ثابت ہو سکتا ہے۔
سیاسی اور سفارتی اثرات
اس خبر کے سامنے آنے کے بعد عالمی سطح پر کھلبلی مچ گئی ہے۔ روس اور چین، جو ایران کے اہم اتحادی ہیں، نے امریکہ کو کسی بھی یکطرفہ کارروائی کے خلاف سخت وارننگ دی ہے، جس سے عالمی امن کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
دوسری طرف، امریکی کانگریس میں بھی اس معاملے پر تقسیم پائی جاتی ہے۔ کچھ سخت گیر ارکان اس کارروائی کی حمایت کر رہے ہیں جبکہ دیگر کا خیال ہے کہ یہ ایک اور طویل اور تباہ کن جنگ کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔
موجودہ صورتحال
فی الحال، وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون نے باضابطہ طور پر اس خبر کی تصدیق یا تردید نہیں کی ہے۔ تاہم، مبصرین کا کہنا ہے کہ اس خبر کا منظر عام پر آنا ہی اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ صورتحال انتہائی نازک ہو چکی ہے اور امریکہ “سب سے بدتر” صورتحال کے لیے تیاریاں کر رہا ہے۔
کیا امریکہ واقعی یہ پرخطر قدم اٹھائے گا؟ یا یہ صرف ایران پر دباؤ بڑھانے کا ایک حربہ ہے؟ اس کا فیصلہ آنے والے چند ہفتے کریں گے۔
