ملک ریاض اور علی ریاض کے خلاف انٹرپول کے ریڈ نوٹس جاری | نیب کی بڑی کارروائی

اسلام آباد: قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) نذیر احمد نے بدھ کے روز ایک اہم پریس کانفرنس کے دوران انکشاف کیا ہے کہ انٹرپول نے بحرئیہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض اور ان کے صاحبزادے علی ریاض کے خلاف ریڈ نوٹس جاری کر دیے ہیں۔نیب چیئرمین کا اہم بیانچیئرمین نیب نذیر احمد کا کہنا تھا کہ بیورو ان ملزمان کی پاکستان واپسی اور قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہا ہے۔ انہوں نے تصدیق کی کہ نیب کی ایک خصوصی ٹیم دونوں ملزمان کی حوالگی (Extradition) کے عمل کو مکمل کرنے کے لیے روانہ کی جا رہی ہے۔ریڈ نوٹس کیا ہے؟انٹرپول کی جانب سے جاری کردہ ریڈ نوٹس دنیا بھر کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ایک بین الاقوامی الرٹ ہوتا ہے۔ اس کا مقصد کسی بھی مطلوب شخص کو تلاش کرنا اور اسے عارضی طور پر گرفتار کرنا ہوتا ہے تاکہ اسے قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد متعلقہ ملک کے حوالے کیا جا سکے جہاں وہ مقدمات میں مطلوب ہو۔کیس کا پس منظرملک ریاض اور علی ریاض مختلف مالیاتی سکینڈلز اور قانونی تحقیقات کے سلسلے میں نیب کو مطلوب ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ریڈ نوٹس کے اجرا کے بعد اب ملزمان کے لیے بین الاقوامی سطح پر نقل و حرکت مشکل ہو جائے گی اور پاکستان کے لیے ان کی واپسی کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔قانونی ماہرین اس پیش رفت کو احتساب کے عمل میں ایک بڑی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ نیب کی ٹیم عالمی سطح پر قانونی چیلنجز سے نمٹتے ہوئے کب تک ملزمان کو پاکستان منتقل کرنے میں کامیاب ہوتی ہے۔

Read more news

Loading posts…

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top