سزائے موت پر عملدرآمد ناکام، دو زہریلے انجیکشن لگنے کے باوجود مجرمہ کرسٹا پائیک زندہ

امریکی ریاست ٹینیسی میں سزائے موت کے نفاذ کا ایک انتہائی حیرت انگیز اور غیر معمولی واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں قتل کے جرم میں قید 50 سالہ مجرمہ کرسٹا پائیک (Christa Pike) کو دو مرتبہ زہریلا انجیکشن دینے کے باوجود وہ زندہ بچ گئی ہے۔

​تفصیلات کے مطابق ریاست ٹینیسی کی ایک جیل میں سزائے موت دینے کے لیے نامزد کردہ مجرمہ کو پروٹوکول کے مطابق زہریلے انجیکشن (پینٹوباربٹل) کی خوراک دی گئی۔ تاہم پہلی خوراک اثر نہ کرنے پر حکام نے ضابطے کے تحت اسے دوسرا جان لیوا انجیکشن بھی لگایا، لیکن اس کے باوجود وہ موت کے منہ سے واپس آ گئی۔

گواہوں اور وکلاء کے خوفناک انکشافاتg

واقعہ کے چشم دید گواہوں اور مجرمہ کی قانونی ٹیم کے مطابق، دونوں انجیکشنز لگائے جانے کے باوجود کرسٹا پائیک ہوش میں رہیں۔ میڈیا اور گواہوں کا کہنا ہے کہ کارروائی کے دوران وہ اپنا سر اٹھاتی ہوئی اور یہ پوچھتی پائی گئیں کہ کیا بازو کا یہ درد اور جلن عام بات ہے؟ معائنہ کرنے پر اس کے دل کی دھڑکن اور سانسیں بدستور برقرار پائیں۔ اس ہولناک اور ناکام کارروائی کے بعد اسے فوری طور پر جیل سے ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔

حکومتی ردعمل اور سزائے موت پر پابندی

اس انتہائی متنازعہ اور ناکام واقعے کے بعد ریاست ٹینیسی کے گورنر بل لی (Bill Lee) نے سخت نوٹس لیتے ہوئے سال کے اختتام تک ریاست میں سزائے موت کے تمام آئندہ شیڈول معطل کر دیے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی پورے معاملے کی شفاف اور آزادانہ تھرڈ پارٹی تحقیقات کا حکم بھی دے دیا گیا ہے۔

پس منظر

واضح رہے کہ کرسٹا پائیک کو سنہ 1995 میں ایک قتل کے جرم میں سنہ 1996 میں سزائے موت سنائی گئی تھی، اور وہ اس وقت ٹینیسی کی ڈیتھ رو (موت کی چکی) پر موجود واحد خاتون قیدی تھیں। اس ناکام پھانسی کے واقعے نے ایک بار پھر امریکہ میں سزائے موت کے طریق کار اور اس کے انسانیپہلوؤں پر ایک طویل عالمی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ VSPro News – تازہ ترین بین الاقوامی اپڈیٹس اور خبروں کے لیے جڑے رہیے۔

Loading posts…

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top