برین ڈرین کا بحران: 3 سالوں میں 18 لاکھ سے زائد پاکستانی بیرونِ ملک منتقل – سرکاری رپورٹ

برین ڈرین کا بحران: گزشتہ 3 سالوں میں 18 لاکھ 71 ہزار سے زائد پاکستانی بیرونِ ملک منتقل، سرکاری رپورٹ جاری

وزارتِ سمندر پار پاکستانی و ترقی انسانی وسائل (چوہدری سالک حسین) کی رپورٹ کے مطابق، گزشتہ تین سالوں (2024ء سے 2026ء) کے دوران مجموعی طور پر 1,871,666 (18 لاکھ 71 ہزار 666) پاکستانی روزگار کے سلسلے میں بیرونِ ملک منتقل ہوئے۔

بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائমেন্ট کارپوریشن کے توسط سے ملک سے باہر جانے والوں میں عام ورکرز کے علاوہ اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد، ڈاکٹرز، مینیجرز، انجینئرز، اکاؤنٹنٹس، آئی ٹی پروفیشنلز، اساتذہ، نرسیں اور دیگر ماہر طبقات بڑی تعداد میں شامل ہیں۔

پیشہ ورانہ کیٹیگریز کے لحاظ سے سالانہ تفصیل (2024 تا 2026)

سرکاری دستاویز کے مطابق مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی سال بہ سال تفصیل درج ذیل ہے:

پیشہ ورانہ کیٹیگری2024ء2025ء2026ء
اعلیٰ تعلیم یافتہ45,83028,72615,850
مینیجرز23,6749,5625,190
انجینئرز8,0155,9453,605
اکاؤنٹنٹس4,7794,3051,771
ڈاکٹرز3,6253,7952,093
اساتذہ1,7291,7251,457
نرسیں2,0301,639626
کمپیوٹر پروگرامرز1,3511,147664
سسٹم اینالسٹس388362243
فارماسٹس155183156
ڈیٹا انگوڈرز846345
اعلیٰ مہارت یافتہ1,6161,510681
مالیاتی تجزیہ کار683923424
مشیر (Consultants)836512228
بجٹ کنٹرولرز643818
پائلٹس333711

اثرات اور معاشی منظرنامہ

ماہرین کے مطابق ملک سے ہنرمند افراد اور پروفیشنلز کی اس بڑی تعداد میں روانگی سے پاکستان کے اندرونی ڈھانچے، بالخصوص صحت، تعلیم اور آئی ٹی کے شعبوں میں ایک خلا پیدا ہو رہا ہے۔ اگرچہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی طرف سے آنے والی ترسیلاتِ زر معیشت کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہیں، تاہم طویل مدت میں ملکی ترقی کے لیے انسانی سرمائے کا یہ زوال ایک لمحہ فکریہ ہے۔

Loading posts…

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top