

- تعارف
آسمان میں اُڑتے ہوئے جہاز کے پیچھے اکثر ایک لمبی سفید لائن بنتی ہوئی نظر آتی ہے۔ بہت سے لوگ اسے “دھواں”، “بادل”، یا کوئی عجیب سا آسمانی اثر سمجھ لیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں یہ ایک بالکل قدرتی اور سائنسی عمل ہے۔
یہ لائن دیکھنے میں سادہ لگتی ہے، مگر اس کے پیچھے موجود سائنس حیران کن بھی ہے اور دلچسپ بھی۔
کئی لوگ یہ سوال کرتے ہیں:
“یہ لائن آخر کیوں بنتی ہے؟ کیا یہ نقصان دہ ہے؟ کیا یہ بادل جیسی ہوتی ہے؟”
اسی تجسس کو دور کرنے کے لیے ہم اس بلاگ میں جہازوں کے پیچھے بننے والی ان سفید لکیروں — یعنی Contrails — کی مکمل وضاحت کریں گے۔
- کونٹریل (Contrail) کیا ہے؟
“Contrail” اصل میں دو لفظوں کا مجموعہ ہے:
Condensation + Trail یعنی
“بھاپ کے گاڑھے ہونے سے بنی ہوئی لکیر”۔
جب جہاز آسمان کی اونچی تہوں میں اُڑتا ہے، تو اس کے انجن سے گرم گیسیں اور بخارات باہر نکلتے ہیں۔ اوپر کی فضا بہت زیادہ ٹھنڈی ہوتی ہے، اس لیے یہ گرم بخارات ٹھنڈی ہوا سے ٹکرا کر فوراً برف کے نہایت باریک ذرات بنا لیتے ہیں۔
یہ برف کے ذرات مل کر آسمان میں سفید، لمبی اور سیدھی لائن بناتے ہیں جسے ہم Contrail کہتے ہیں۔
یہ بالکل ایسے ہے جیسے سردی میں آپ کا سانس منہ سے باہر آ کر دھند کی طرح نظر آتا ہے—بس فرق یہ ہے کہ جہاز بہت بڑی سطح پر یہ عمل پیدا کرتا ہے۔
3. کونٹریل کیسے بنتی ہے؟کونٹریل کا بننا ایک سادہ لیکن حیرت انگیز سائنسی عمل ہے۔ جب ایک جہاز آسمان کی اونچائی پر پرواز کرتا ہے تو اس کے انجن سے مختلف گیسیں اور بخارات خارج ہوتے ہیں۔ اب دیکھتے ہیں کہ یہ سفید لائن کیسے وجود میں آتی ہے:
1. انجن سے گرم بھاپ اور گیسوں کا اخراججہاز کے انجن میں ایندھن جلتا ہے، جس سےگرم پانی کی بھاپ، کاربن ڈائی آکسائیڈ اور کچھ گیسیں نکلتی ہیں۔
- اوپر کی ہوا کا شدید ٹھنڈا ہونا
زمین سے 30 ہزار فٹ یا اس سے بھی زیادہ اونچائی پر درجہ حرارت
-40°C سے -60°C تک ہوتا ہے۔
اتنی ٹھنڈ میں گرم بھاپ کا ٹھنڈی ہوا سے ٹکرانا فوراً تبدیلی پیدا کرتا ہے۔
- بھاپ کا فوراً برف میں تبدیل ہونا
یہ گرم بخارات ٹھنڈی فضا میں آ کر اچانک condense (گاڑھے) ہو جاتے ہیں۔
پانی کے یہی چھوٹے قطرے لمحوں میں باریک برف کے ذرات بن جاتے ہیں۔
4. برف کے ذرات مل کر سفید لائن بناتے ہیںیہ برف کے ذرات آپس میں جڑ کر ایک لمبی، سفید اور سیدھی لائن بناتے ہیں،جو ہمیں آسمان میں دور تک کھنچی ہوئی نظر آتی ہے۔اسی سفید لکیر کو contrail کہا جاتا ہے۔
- موسم اس لائن کی لمبائی اور مدت کو بدل سکتا ہے
اگر فضا میں نمی کم ہو تو لائن جلد غائب ہو جاتی ہے۔
اگر نمی زیادہ ہو تو contrail لمبے وقت تک آسمان میں قائم رہتی ہے۔
کیا یہ خطرناک ہوتی ہے؟
بہت سے لوگ آسمان میں بننے والی سفید لکیروں کو دیکھ کر سوچتے ہیں کہ شاید یہ دھواں ہے یا کوئی کیمیکل۔ لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ Contrails بالکل بے ضرر ہوتی ہیں اور صرف چند قدرتی عناصر پر مشتمل ہوتی ہیں۔
یہ صرف بھاپ اور برف کے ذرات ہوتے ہیں
کوئی کیمیکل یا زہریلا مادہ شامل نہیں ہوتا
ماحول کے لیے بھی خطرناک نہیں
لوگوں میں پھیلی افواہیں غلط فہمیاں ہیں
یہ جہاز کے انجن کی عام کارکردگی کا حصہ ہے
یہ لائنیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ انجن ٹھیک طرح کام کر رہا ہے،
کیونکہ بھاپ جلنے کے عمل کا لازمی نتیجہ ہے۔
کونٹریل اور کیم ٹریل (Chemtrail) کا فرقدنیا بھر میں ایک مشہور غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ آسمان میں دکھائی دینے والی جہاز کی سفید لکیریں “کیم ٹریل” یعنی کیمیکل اسپرے ہوتی ہیں۔ جبکہ حقیقت میں ایسا کچھ نہیں ہے۔ آئیے دونوں کا فرق آسان زبان میں سمجھتے ہیں:
Contrail کیا ہے؟ (حقیقت)
یہ صرف بھاپ اور برف کے ذرات ہوتی ہے
انجن سے نکلنے والی گرم گیسیں ٹھنڈی فضا میں جا کر فوراً جما جاتی ہیں
چند منٹ یا گھنٹے میں ختم ہوجاتی ہیں
سائنس نے اسے مکمل طور پر ثابت کیا ہے
Chemtrail کیا ہے؟ (افواہ)کیم ٹریل کا تصور ایک سازشی تھیوری ہےاس کا دعویٰ ہے کہ جہاز آسمان میں زہریلے کیمیکل پھینک رہے ہیںدنیا بھر کی سائنسی تحقیقات نے اس دعوے کو غلط قرار دیاکبھی کوئی ثبوت نہیں ملا کہ مسافر بردار یا کارگو جہاز کیمیکل اسپرے کرتے ہیں
Contrail ایک بالکل عام اور قدرتی اثر ہے،جبکہ Chemtrail صرف افواہوں اور قیاس آرائیوں پر مبنی خیال ہے۔سچ یہ ہے کہ جہاز آسمان میں صرف بھاپ چھوڑتے ہیں، کوئی خطرناک چیز نہیں۔
