
جگہ زمین دھنسنے سے ترکیہ کے فارم تباہ، ہو کیا رہا ہے؟
ترکیہ کے وسطی زرعی علاقے میں زمین کے اچانک دھنسنے کے واقعات نے تشویشناک صورتحال پیدا کر دی ہے، جہاں ہزاروں ایکڑ پر پھیلے زرخیز کھیت زمین میں غائب ہو چکے ہیں۔ خاص طور پر کونیا (Konya) کے میدان میں سینکڑوں بڑے گڑھے، جنہیں سائنسی زبان میں سنک ہولز (Sinkholes) کہا جاتا ہے، بن چکے ہیں جو فصلوں، کھیتوں اور انفراسٹرکچر کو نگل رہے ہیں۔
: حالیہ رپورٹس کے مطابق
حالیہ رپورٹس کے مطابق اب تک اس علاقے میں تقریباً 700 کے قریب سنک ہولز کی نشاندہی کی جا چکی ہے۔ یہ گہرے گڑھے بعض مقامات پر اتنے وسیع ہیں کہ پورے کے پورے کھیت چند لمحوں میں ختم ہو جاتے ہیں، جس سے کسان شدید مالی نقصان کا شکار ہو رہے ہیں۔
زمین کیوں دھنس رہی ہے؟
ماہرین ارضیات کے مطابق اس سنگین مسئلے کی بنیادی وجہ زیرِ زمین پانی کا حد سے زیادہ استعمال ہے۔ طویل خشک سالی کے باعث کسان فصلوں کو بچانے کے لیے بے دریغ پانی نکال رہے ہیں، جس سے زمین کے نیچے موجود قدرتی خلا کمزور ہو جاتے ہیں اور اوپر کی سطح اچانک بیٹھ جاتی ہے۔
اس کے علاوہ کونیا کے علاقے کی زمین میں موجود کارسٹ چٹانیں (چونا پتھر اور جپسم) پانی کے کم ہونے پر کھوکھلی ہو جاتی ہیں، جو زمین دھنسنے کے خطرے کو مزید بڑھا دیتی ہیں۔
زراعت اور معیشت پر اثرا
کونیا کا میدان ترکیہ کا سب سے بڑا گندم پیدا کرنے والا علاقہ سمجھا جاتا ہے۔ زمین کے دھنسنے سے نہ صرف فصلیں تباہ ہو رہی ہیں بلکہ کسان کھیت چھوڑنے پر مجبور ہو رہے ہیں، جس سے ملکی غذائی تحفظ کو بھی خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔

ماہرین کی وارننگ

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر پانی کے استعمال کو کنٹرول نہ کیا گیا اور جدید زرعی پالیسیوں پر عمل نہ ہوا تو مستقبل میں یہ بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔
یہ مسئلہ اس بات کی واضح مثال ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اور انسانی لاپرواہی کس طرح قدرتی نظام کو خطرناک حد تک متاثر کر سکتی ہے۔
کیوں یہ مسئلہ اتنا بڑا ہے؟
یہ مسئلہ صرف “ایک چند گڑھے” کا نہیں ہے — یہ ایک ماحولیاتی، موسمیاتی، اور انسانی سرگرمیوں سے جڑا ہنگامہ ہے۔ خشک سالی اور زیادہ پانی نکالنے کی وجہ سے زمین کا ڈھانچہ کمزور پڑ رہا ہے، جس کا برا اثر زراعت، معیشت، اور مقامی آبادی پر پڑ رہا ہے۔
