
اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو نے اتوار کے روز ایرانی عوام سے یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کے مختلف شہروں میں حکومت مخالف مظاہرے زور پکڑ چکے ہیں۔ہفتہ وار کابینہ اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل ایرانی عوام کی آزادی اور انصاف کی جدوجہد کو سمجھتا ہے اور ان کے ساتھ کھڑا ہے۔ ان کے مطابق یہ وہ لمحہ ہو سکتا ہے جب ایرانی عوام اپنی تقدیر کا فیصلہ خود کر رہے ہیں۔
نیتن یاہو کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا کہ اسرائیل ایرانی عوام کی امنگوں کی حمایت کرتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ملک بھر میں غیر معمولی ہلچل دیکھی جا رہی ہے۔ایران میں یہ مظاہرے ابتدا میں معاشی مسائل کے خلاف شروع ہوئے۔ گزشتہ اتوار کو دکانداروں نے ہڑتال کی، جس کے بعد احتجاج کا دائرہ پھیلتا چلا گیا۔ اب مظاہرین صرف مہنگائی ہی نہیں بلکہ سیاسی تبدیلیوں کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں۔
ایرانی سرکاری ذرائع کے مطابق اب تک کم از کم 40 شہروں میں مظاہروں کی اطلاعات ہیں، جن میں ایران کے مغربی اور درمیانی علاقے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ جھڑپوں کے دوران کم از کم 12 افراد ہلاک ہوئے ہیں، جن میں سکیورٹی فورسز کے اہلکار بھی شامل ہیں۔ایران اور اسرائیل کے تعلقات طویل عرصے سے کشیدہ رہے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان گزشتہ جون میں باقاعدہ جنگ بھی ہو چکی ہے، جس کے اثرات اب تک خطے میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔اسی تناظر میں نیتن یاہو نے ایران کے جوہری پروگرام پر بھی بات کی۔
انہوں نے بتایا کہ حالیہ دورہ امریکہ کے دوران اس معاملے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے تفصیلی گفتگو ہوئی۔نیتن یاہو کے مطابق اسرائیل اور امریکہ اس بات پر متفق ہیں کہ ایران میں جوہری افزودگی کو مکمل طور پر روکا جائے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران سے 400 کلوگرام افزودہ جوہری مواد ہٹانا اور تمام جوہری تنصیبات کو سخت اور مؤثر نگرانی میں لانا ضروری ہے۔
نیتن یاہو نے کہا کہ یہ تمام بات چیت ایسے وقت میں ہوئی جب ایران کے اندر مظاہرے ایک ڈرامائی شکل اختیار کر چکے تھے۔ایران کی صورتحال پر عالمی سطح پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ مظاہرے کس سمت جاتے ہیں، اس کا اثر نہ صرف ایران بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کی سیاست پر پڑ سکتا ہے۔
