
برطانیہ شدید سردی کی لپیٹ میں، منفی درجہ حرارت کے نئے ریکارڈ، اسکول اور پروازیں متاثر
سخت سرد موسم کے باعث بچوں کی کرسمس تعطیلات میں توسیع کر دی گئی ہے۔ برفباری کی وجہ سے ملک کے مختلف حصوں میں سیکڑوں اسکول دوسرے روز بھی نہ کھل سکے۔ سڑکوں، ریل اور فضائی سفر میں شدید رکاوٹیں سامنے آئیں، جس سے مسافروں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
پاکستان کی طرح برطانیہ میں بھی سردی کی شدت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ہر گزرتی رات کے ساتھ کم از کم درجہ حرارت کے ریکارڈ ٹوٹ رہے ہیں۔ لندن سے موصولہ میڈیا رپورٹس کے مطابق نورفوک کے علاقے مارہم میں گزشتہ شب درجہ حرارت منفی 12.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر گیا۔
رپورٹس کے مطابق پیر کے روز گاڑیوں کے بریک ڈاؤن پر مدد طلب کرنے کی شرح میں 40 فیصد اضافہ ہوا۔ شمالی اسکاٹ لینڈ میں شدید برفباری کے باعث ٹرین سروسز متاثر رہیں اور شام تک بحالی کی امید ظاہر کی گئی۔لندن سے
لندن سے ہالینڈ جانے والی یورو اسٹار سروسز میں بھی خلل پڑا، جہاں ٹرینیں برسلز سے آگے نہ جا سکیں۔ ایبرڈین اور انورنس ایئرپورٹس پر برفباری کے سبب متعدد پروازیں منسوخ ہوئیں۔ لیورپول جان لینن ایئرپورٹ دوپہر تک بند رہا، جبکہ شمالی آئرلینڈ کے سٹی آف ڈیری اور بیلفاسٹ انٹرنیشنل ایئرپورٹس پر بھی پروازیں تاخیر اور منسوخی کا شکار رہیں۔
شدید سردی اور برفباری کے باعث پورے برطانیہ میں 500 سے زائد اسکول بند کر دیے گئے ہیں، جبکہ شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کا مشورہ دیا جا رہا ہے۔
