
میری طاقت کی حد صرف میرا ضمیر ہے، ٹرمپ کا چونکا دینے والا بیان
ایک حالیہ انٹرویو میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی سیاست اور فوجی فیصلوں پر کھل کر بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے فیصلوں کو کوئی بین الاقوامی قانون یا بیرونی ضابطہ نہیں روک سکتا، اگر کوئی چیز ہے جو انہیں حد میں رکھتی ہے تو وہ ان کی اپنی سوچ اور اخلاقیات ہیں۔
ٹرمپ سے سوال کیا گیا کہ کیا ایک عالمی طاقت ہونے کے ناطے امریکا پر بھی کوئی حد لاگو ہوتی ہے۔ اس پر انہوں نے صاف جواب دیا کہ ہاں، مگر وہ حد کسی معاہدے یا قانون کی نہیں بلکہ ان کے اپنے دماغ اور ذاتی اخلاقیات کی ہے۔ ان کے مطابق یہی واحد عنصر ہے جو انہیں کسی قدم سے روک سکتا ہے۔
سابق صدر نے مزید کہا کہ انہیں بین الاقوامی قوانین کی اس لیے ضرورت محسوس نہیں ہوتی کیونکہ وہ کسی کو نقصان پہنچانے کا ارادہ نہیں رکھتے۔ تاہم جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ان کی حکومت کو عالمی قوانین کی پابندی کرنی چاہیے، تو انہوں نے کہا کہ امریکا ان قوانین کی پیروی کرتا ہے، مگر یہ فیصلہ خود امریکا کرے گا کہ کب اور کس حد تک یہ پابندیاں لاگو ہوں گی۔
ٹرمپ کے اس بیان نے ایک بار پھر عالمی سطح پر بحث چھیڑ دی ہے۔ ناقدین اسے طاقت کا غرور قرار دے رہے ہیں، جبکہ حامی اسے مضبوط قیادت کی علامت سمجھتے ہیں۔ ایک بات طے ہے کہ ٹرمپ کا یہ انداز ہمیشہ کی طرح توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں

