اسلام آباد مذاکرات: امریکہ اور ایران کی دہائیوں بعد براہِ راست ملاقات، پاکستان عالمی سفارتکاری کا مرکز

اسلام آباد (وی ایس پرو نیوز) – پاکستان کے دارالحکومت میں آج ایک تاریخی سفارتی پیشرفت دیکھنے میں آئی ہے جہاں امریکہ اور ایران کے اعلیٰ سطح کے وفود 2026 کی جنگ کے بعد مستقل جنگ بندی اور پائیدار امن کے لیے براہِ راست مذاکرات کی میز پر بیٹھ گئے ہیں۔ وائٹ ہاؤس اور پاکستانی حکام نے اس اہم تزویراتی ملاقات کی تصدیق کر دی ہے۔

مذاکرات کا پس منظر اور عالمی اہمیتفروری 2026 میں شروع ہونے والی امریکہ-ایران کشیدگی کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ دونوں ممالک کے نمائندے کسی تیسرے ملک کی میزبانی میں آمنے سامنے بیٹھے ہیں۔ ذرائع کے مطابق، امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے ہیں، جبکہ ان کے ہمراہ سابق صدر ٹرمپ کے قریبی ساتھی جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف بھی شامل ہیں۔ ایرانی وفد کی قیادت پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف کا کردار

​مذاکرات سے قبل وزیراعظم شہباز شریف نے امریکی اور ایرانی وفود سے وزیراعظم ہاؤس میں الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ بات چیت نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے کے استحکام کے لیے ’تعمیری‘ ثابت ہوگی۔ پاکستان اس وقت ایک کلیدی ثالث کے طور پر ابھرا ہے، جس کی کوششوں سے یہ براہِ راست مکالمہ ممکن ہو سکا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ اور مسعود پزشکیان کے اہم پیانات

​امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کو کلیئر کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے اور ایران اس جنگ میں ‘بری طرح ہار رہا ہے’۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ عالمی تجارت کے لیے ایک بڑا ریلیف ہوگا۔

دوسری جانب، ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ‘ایکس’ پر اپنے پیغام میں ایرانی وفد کی تعریف کرتے ہوئے کہا:

​”پاکستان میں موجود ہمارا وفد پوری قوت اور جرأت کے ساتھ ایرانی مفادات کا تحفظ کر رہا ہے۔ مذاکرات کا نتیجہ جو بھی ہو، ہم اپنے قومی وقار پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔”

بند دروازوں کے پیچھے حساس گفتگو

​اسلام آباد میں سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور جناح کنونشن سینٹر کو عالمی میڈیا کے لیے ‘فیسلیٹیشن سینٹر’ بنا دیا گیا ہے۔ تاہم، مذاکرات کی حساسیت کے پیشِ نظر تفصیلات کو خفیہ رکھا جا رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق، بات چیت کے ایجنڈے میں آبنائے ہرمز کا کنٹرول، جنگی نقصانات کا ازالہ اور مستقل جنگ بندی شامل ہیں۔

​لبنان کی صورتحال اور اسرائیلی حملے

​جب اسلام آباد میں امن کی کوششیں جاری ہیں، لبنان سے تشویشناک خبریں موصول ہو رہی ہیں۔ اسرائیل نے ‘آپریشن ایٹرنل ڈارکنیس’ کے تحت گذشتہ 24 گھنٹوں میں حزب اللہ کے 200 سے زائد اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ ان حملوں میں جنوبی لبنان اور بیروت میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان کی اطلاعات ہیں، جس نے جاری امن عمل پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔

​پاکستانی اور عالمی ماہرین کے مطابق، اگر اسلام آباد مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو یہ 21ویں صدی کی سب سے بڑی سفارتی کامیابی ہوگی۔

​تازہ ترین اپڈیٹس کے لیے دیکھتے رہیے: vspronews.com

Loading posts…

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top