
اسلام آباد: پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے ایران اور امریکہ کے درمیان اعلیٰ سطح کے مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق، ایران نے امریکہ کی جانب سے پیش کردہ تجاویز اور شرائط کو قبول کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی کم ہونے کی امیدیں فی الحال دم توڑتی نظر آ رہی ہیں۔
اہم پیشرفت اور ڈیڈ لاک
- شرائط پر اختلاف: ایران نے امریکی وفد کی جانب سے پیش کی گئی شرائط کو “ناقابل قبول” قرار دیتے ہوئے اپنی پرانی “ریڈ لائنز” (سرخ لکیروں) پر قائم رہنے کا اعلان کیا ہے۔ ان شرائط میں آبنائے ہرمز کا کنٹرول، منجمد اثاثوں کی واپسی اور جنگی نقصانات کا ازالہ شامل تھا۔
- امریکی مؤقف: مذاکرات کی ناکامی کے بعد امریکی وفد نے واضح کیا ہے کہ وہ اب اپنی “ریڈ لائن” کے ساتھ واپس جا رہے ہیں۔ نائب صدر جے ڈی وینس اور دیگر امریکی حکام نے اشارہ دیا ہے کہ اگر ایران لچک نہیں دکھاتا تو امریکہ اپنے اگلے لائحہ عمل (Red Line Strategy) پر عمل کرے گا۔
- پاکستان کا کردار: پاکستان نے ان مذاکرات کی میزبانی کرتے ہوئے اسلام آباد کو ایک عالمی سفارتی مرکز میں تبدیل کر دیا تھا، جہاں کئی گھنٹوں تک طویل نشستیں ہوئیں، لیکن فریقین کے درمیان دہائیوں پر محیط عدم اعتماد حائل رہا۔
آئندہ کی صورتحال
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے شرائط مسترد کیے جانے کے بعد آبنائے ہرمز اور مشرق وسطیٰ میں فوجی تناؤ میں اضافے کا خدشہ ہے۔ امریکی وفد کی واپسی اور “ریڈ لائن” کے ذکر سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن اب سفارت کاری کے بجائے دیگر آپشنز پر غور کر سکتا ہے۔
نوٹ
یہ رپورٹ Pakistan TV کی حالیہ کوریج اور اسلام آباد میں ہونے والی سفارتی سرگرمیوں کے تناظر میں تیار کی گئی ہے۔
Loading posts…
