
نیتن یاہو کا ایران کے خلاف جنگ جاری رکھنے کا عزم، صدر اردوان پر بھی کڑی تنقید
اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے، جو غزہ میں مبینہ جنگی جرائم کے الزام میں بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) کو مطلوب ہیں، ایک بار پھر ایران اور اس کے اتحادیوں کے خلاف اپنی فوجی مہم جاری رکھنے کا سخت عزم ظاہر کیا ہے۔
اپنی ایک حالیہ سوشل میڈیا پوسٹ میں نیتن یاہو نے ترک صدر رجب طیب اردوان کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ صدر اردوان ایک طرف ایران کے حامیوں کو پناہ دیتے ہیں اور دوسری طرف اپنے ہی ملک میں کرد شہریوں کے خلاف کارروائیاں کرتے ہیں۔
اہم نکات
- ایران کے خلاف جنگ: نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ اسرائیل ایران کی “دہشت گرد حکومت” اور اس کے پراکسیز کو کچلنا جاری رکھے گا اور اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھے گا جب تک اپنے تمام سیکیورٹی اہداف حاصل نہیں کر لیتا۔
- صدر اردوان پر جوابی وار: یہ سخت بیان ان رپورٹس کے بعد سامنے آیا ہے جن میں کہا گیا کہ ترکی کے استغاثہ نے نیتن یاہو اور دیگر اسرائیلی حکام کے لیے انسانیت کے خلاف جرائم اور نسل کشی کے الزامات میں طویل قید کی سزا کی استدعا کی ہے۔
- آئی سی سی (ICC) کا دباؤ: نیتن یاہو کو غزہ میں بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کرنے اور شہریوں پر دانستہ حملوں جیسے الزامات میں بین الاقوامی گرفتاری کے وارنٹ کا سامنا ہے، تاہم وہ ان الزامات کو مسلسل مسترد کرتے آ رہے ہیں۔
علاقائی صورتحال
یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی عروج پر ہے اور اسرائیل لبنان، شام اور غزہ سمیت متعدد محاذوں پر فوجی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل نے اپنی فوجی طاقت کے ذریعے خطے کا نقشہ بدل دیا ہے اور وہ کسی بھی دباؤ میں آئے بغیر اپنی مہم جاری رکھیں گے۔
مذاکرات کے بند دروازوں کے پیچھے کیا ہو رہا ہے؟ اور صدر ٹرمپ کے دعوے میں کتنی سچائی ہے؟👇 مکمل تفصیلات جاننے کے لیے کمنٹ میں دیے گئے لنک پر کلک =12https://vspronews.com/?p=1201
مزید خبروں کے لیے ہمارے وٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

