
ڈیجیٹل سکرینز کا بڑھتا ہوا استعمال: پاکستانی ماہرینِ چشم نے خطرے کی گھنٹی بجا دی
اسلام آباد (وی ایس پرو نیوز): پاکستان میں موبائل فون، لیپ ٹاپ اور ٹیبلیٹ کے بے تحاشہ استعمال کی وجہ سے شہریوں، بالخصوص بچوں کی بینائی شدید متاثر ہونے لگی ہے۔ ماہرینِ صحت نے خبردار کیا ہے کہ اگر احتیاطی تدابیر اختیار نہ کی گئیں تو 2050 تک ملک کی آدھی سے زیادہ آبادی نظر کی کمزوری کا شکار ہو سکتی ہے۔
آنکھوں کی تھکاوٹ اور ‘ڈیجیٹل آئی اسٹرین’
حال ہی میں نشتر میڈیکل کالج اور الشفاء ٹرسٹ کے ماہرین کی جانب سے جاری کردہ رپورٹس کے مطابق، سکرین کے سامنے مسلسل بیٹھنے سے آنکھوں میں جلن، دھندلاہٹ اور سر درد کی شکایات میں 60 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سکرین دیکھتے وقت انسان عام معمول سے کم بار پلکیں جھپکاتا ہے، جس سے آنکھیں خشک ہو جاتی ہیں اور ان کے پٹھوں پر دباؤ بڑھ جاتا ہے۔
20-20-20 رول: ایک آسان اور مفت حل
عالمی ماہرینِ چشم اور پاکستانی ڈاکٹرز نے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے ایک سادہ مگر انتہائی موثر فارمولا تجویز کیا ہے جسے ’20-20-20 رول’ کہا جاتا ہے۔ اس اصول کے مطابق:
- ہر 20 منٹ کے کام کے بعد ایک وقفہ لیں۔
- صرف 20 سیکنڈ کے لیے اپنی نظر اسکرین سے ہٹائیں۔
- کم از کم 20 فٹ دور کسی چیز کو دیکھیں۔
ماہرین کی مزید تجاویز
الشفاء ٹرسٹ آئی اسپتال کے صدر میجر جنرل (ر) رحمت خان اور دیگر ماہرین نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ
مناسب فاصلہ
موبائل کو آنکھوں سے کم از کم 12 سے 14 انچ دور رکھیں۔
لائٹنگ کا خیال
اندھیرے میں موبائل یا لیپ ٹاپ کا استعمال بینائی کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے
۔پلکیں جھپکانا
کام کے دوران شعوری طور پر با بار پلکیں جھپکائیں تاکہ آنکھوں میں نمی برقرار رہے۔
بچوں کے لیے احتیاط
بچوں کے لیے سکرین ٹائم محدود کریں اور انہیں آؤٹ ڈور سرگرمیوں کی ترغیب دیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل دور میں سکرین سے مکمل دوری ممکن نہیں، لیکن ان چھوٹی چھوٹی عادتوں کو اپنا کر ہم اپنی قیمتی بینائی کو طویل عرصے تک محفوظ رکھ سکتے ہیں۔
