ایران امریکہ مذاکرات کا تعطل ختم، پاکستان کا متحرک سفارتی کردار

اسلام آباد (وی ایس پرو نیوز): مشرق وسطیٰ اور عالمی سیاست میں بڑی ہلچل، پاکستان نے خطے میں امن کے قیام کے لیے ایک بار پھر کلیدی کردار سنبھال لیا۔

عالمی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق، امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے بلکہ پس پردہ رابطے اب بھی برقرار ہیں۔پاکستان کا اہم سفارتی ہدف: 22 اپریل کی ڈیڈ لائنذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان ان مذاکرات کو دوبارہ فعال کرنے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہا ہے۔ حکومتِ پاکستان کا ہدف ہے کہ 22 اپریل سے پہلے مذاکرات کا دوسرا دور شروع کروایا جائے تاکہ خطے میں کشیدگی کو کم کیا جا سکے اور کسی بڑے بحران سے بچا جا سکے۔

وزیراعظم کا دورہ سعودی عرب اور ترکیہاس مشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے وزیراعظم پاکستان جلد ہی سعودی عرب اور ترکیہ کے اہم دورے کریں گے۔ ان دوروں کا بنیادی مقصد دونوں برادر اسلامی ممالک کی قیادت کو اعتماد میں لینا اور انہیں امن مذاکرات کے عمل میں شامل ہونے کی باضابطہ دعوت دینا ہے۔مذاکرات کی میز پر نئے اسٹیک ہولڈرزپاکستان کی حکمت عملی یہ ہے کہ ان مذاکرات کو صرف دو ممالک تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ سعودی عرب اور ترکیہ جیسے بااثر ممالک کی شمولیت سے اس عمل کو مزید مستحکم اور قابلِ قبول بنایا جائے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان ان ممالک کو میز پر لانے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ پاکستانی خارجہ پالیسی کی ایک بڑی کامیابی ہوگی۔تجزیہ کاروں کی رائے:سیاسی مبصرین کے مطابق، پاکستان کا یہ اقدام نہ صرف پاک ایران تعلقات بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے امیج کو ایک “امن پسند اور سہولت کار” ملک کے طور پر ابھارے گا۔ دنیا بھر کی نظریں اب 22 اپریل کی ڈیڈ لائن اور وزیراعظم کے دوروں کے نتائج پر جمی ہوئی ہیں۔

Loading posts…

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top