ٹرمپ کا ایران کی ایٹمی تنصیب پر حملے کا عندیہ: ’پک ایکس ماؤنٹین‘ ہدف بن سکتا ہے

امریکہ کا ایران کی زیرِ زمین ایٹمی تنصیب ’پک ایکس ماؤنٹین‘ کو نشانہ بنانے کا عندیہ: ٹرمپ کا نیا بیان

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ ایران کو ایٹمی ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے لیے امریکا کو اس کے ایٹمی پروگرام سے منسلک زیرِ زمین مقام ’پک ایکس ماؤنٹین‘ (Pickaxe Mountain) پر حملہ کرنا پڑ سکتا ہے۔

جمعرات کی شب ایک انٹرویو کے دوران امریکی صدر نے دوٹوک انداز میں کہا کہ امریکا کسی بھی صورت میں ایران کو ایٹمی طاقت بننے کی اجازت نہیں دے گا، کیونکہ ان کے بقول اگر ایران نے ایٹمی ہتھیار حاصل کر لیے تو وہ خطے اور دنیا کے امن کے خلاف اس کا استعمال کرے گا۔


ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کی تردید

ٹرمپ نے انتباہ جاری کرتے ہوئے واضح کیا کہ ایران کے خلاف جاری کشیدگی یا ممکنہ کارروائی میں امریکا ایٹمی ہتھیاروں کا استعمال نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن کے پاس روایتی اور جدید عسکری صلاحیتیں اتنی طاقتور ہیں کہ وہ اپنے اہداف بغیر کسی ایٹمی ہتھیار کے حاصل کر سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے زمینی فوج (Ground Troops) اتارنے کے امکانات کو بھی سختی سے مسترد کر دیا۔

’پک ایکس ماؤنٹین‘ کو تیزی سے تباہ کرنے کا عزم

ایران کی زیرِ زمین ایٹمی تنصیبات کا ذکر کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ تہران کا ایٹمی پروگرام پہاڑوں کے اندر لاکھوں ٹن چٹانوں کے نیچے محفوظ بنایا گیا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ امریکا اب ’پک ایکس ماؤنٹین‘ کو نشانہ بنانے پر سنجیدگی سے غور کر رہا ہے اور ضرورت پڑنے پر اس قلعہ نما زیرِ زمین مقام کو انتہائی تیزی سے تباہ کر دیا جائے گا۔

پس منظر اور اہمیت

تجزیہ کاروں کے مطابق، ’پک ایکس ماؤنٹین‘ ایران کے حساس ترین اور گہرائی میں بنائے گئے عسکری و جوہری مقامات میں سے ایک ہے، جسے تہران کے ایٹمی عزائم کا ایک اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔ امریکی صدر کی جانب سے اس مخصوص مقام کو نشانہ بنانے کی دھمکی نے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کی نئی لہر پیدا کر دی ہے، جبکہ عالمی سطح پر اس بیان کو انتہائی اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔


Loading posts…

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top