
امریکہ کی طرف سے حملہ کیوں روکا گیا اصل وجہ سامنے اگئی
ذرائع کے مطابق سب سے بڑی وجہ علاقائی دباؤ تھا۔ مشرقِ وسطیٰ کے اہم ممالک نے امریکا کو صاف پیغام دیا کہ کسی بھی فوجی کارروائی سے پورا خطہ جنگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔ سعودی عرب، قطر اور عمان جیسے ممالک نے سفارتی سطح پر سخت تحفظات ظاہر کیے۔
دوسری بڑی وجہ فوجی خطرات تھے۔ امریکی انٹیلی جنس رپورٹس میں بتایا گیا کہ حملے کی صورت میں امریکی اڈے، بحری جہاز اور اتحادی تنصیبات فوری جوابی کارروائی کا نشانہ بن سکتے تھے۔ اس سے جانی اور مالی نقصان کا خدشہ بڑھ گیا۔
دوسری بڑی وجہ فوجی خطرات تھے۔ امریکی انٹیلی جنس رپورٹس میں بتایا گیا کہ حملے کی صورت میں امریکی اڈے، بحری جہاز اور اتحادی تنصیبات فوری جوابی کارروائی کا نشانہ بن سکتے تھے۔ اس سے جانی اور مالی نقصان کا خدشہ بڑھ گیا۔
تیسری اہم وجہ عالمی ردعمل تھا۔ یورپ، چین اور روس نے بھی کشیدگی کم کرنے پر زور دیا۔ عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں ممکنہ شدید اضافہ بھی واشنگٹن کے لیے تشویش کا باعث بنا۔
امریکی اندرونی سیاست بھی ایک عنصر بنی۔ صدارتی انتخاب کے ماحول میں نئی جنگ شروع کرنا عوامی حمایت کھونے کا سبب بن سکتا تھا۔ اسی لیے حکومت نے وقتی طور پر سفارت کاری کو ترجیح دی۔
نتیجہ یہ نکلا کہ امریکا نے براہ راست حملے کے بجائے دباؤ، پابندیوں اور مذاکرات کا راستہ اختیار کیا۔ ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ وقتی ہے، حالات بدلنے پر پالیسی میں تبدیلی آ سکتی ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں
سالوں پر محیط ایک حیرت انگیز وڈیو
تمام اہلِ ایمان کو شبِ معراج کی مبارکباد! 🌙✨
یہ شب اللہ تعالیٰ کی رحمت اور مغفرت کا بہترین موقع ہے۔ دعائیں کریں، نفل عبادت کریں اور اپنے دل کو اللہ کی محبت سے منور کریں۔ اللہ ہم سب کی زندگیوں میں سکون، ایمان کی روشنی اور خوشیوں کا اضافہ فرمائے۔
