سوشل میڈیا کی دنیا میں شہرت کے ساتھ آزمائشیں بھی آتی ہیں۔ معروف ٹک ٹاکر فاطمہ جتوئی نے حال ہی میں ایک پوڈکاسٹ میں اپنے ساتھ پیش آنے والے ایک نہایت تکلیف دہ مرحلے کا ذکر کیا، جس نے ان کی ذاتی زندگی کو ہلا کر رکھ دیا۔
فاطمہ کے مطابق ایک جعلی ویڈیو کے پھیلنے کے بعد حالات یکسر بدل گئے۔ انہیں ابتدا میں اس ویڈیو کا علم نہیں تھا، تاہم جب سوشل میڈیا پر باتیں ہونے لگیں اور ٹک ٹاک لائیو میں اس کا ذکر سامنے آیا تو انہیں حقیقت کا پتا چلا۔ اس لمحے کو انہوں نے اپنی زندگی کا سب سے مشکل وقت قرار دیا، جب ذہنی دباؤ اس حد تک بڑھ گیا کہ خود پر قابو رکھنا مشکل ہو گیا۔
انہوں نے بتایا کہ ویڈیو کے اثرات نے انہیں اندر سے توڑ دیا اور کچھ دیر کے لیے انتہائی منفی خیالات نے گھیر لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ شدید پریشانی میں تھیں، مگر اسی دوران والدین نے مضبوط سہارا دیا اور انہیں کسی بھی قدم سے روک لیا۔ فاطمہ نے کہا کہ والدین کی موجودگی اور حوصلہ افزائی نے انہیں سنبھلنے کا موقع دیا۔
فاطمہ جتوئی نے یہ بھی بتایا کہ ایسے حالات میں انہوں نے قرآن پاک سے تسلی حاصل کی اور اپنے چاہنے والوں کے لیے ایک ویڈیو پیغام ریکارڈ کیا، تاکہ دل کی کیفیت بیان کر سکیں۔ ان کے مطابق وہ سمجھتی ہیں کہ یہ سب کسی منظم کوشش کا حصہ تھا، کیونکہ پچھلے دو برسوں سے کچھ افراد انہیں ہراساں کر رہے تھے، ان کے خلاف باتیں پھیلا رہے تھے اور خاندان کو بھی پریشان کیا گیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ ان تمام مشکلات کے باوجود وہ ٹک ٹاک چھوڑنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتیں۔ فاطمہ کا کہنا تھا کہ مخالفین کی خواہش یہی تھی کہ وہ ہار مان لیں، مگر انہوں نے ثابت قدم رہنے کا فیصلہ کیا۔
اپنی گفتگو کے اختتام پر فاطمہ نے کہا کہ ایک لمحے کے لیے بہت منفی سوچ آئی، مگر پھر انہیں یاد آیا کہ اسلام میں اس کی کوئی گنجائش نہیں۔ والدین کے جذبات اور اپنی ذمہ داری کا احساس غالب آیا اور انہوں نے خود کو سنبھال لیا۔ ان کے بقول، وہ جانتی تھیں کہ ہمت ہارنا دراصل ان لوگوں کو کامیاب کرنا ہوگا جو انہیں نقصان پہنچانا چاہتے تھے۔
یہ واقعہ سوشل میڈیا کے دباؤ اور آن لائن کردار کشی کے سنگین اثرات کی ایک واضح مثال ہے، اور یہ یاد دہانی بھی کہ مشکل وقت میں خاندانی سہارا اور حوصلہ انسان کو ٹوٹنے سے بچا لیتا ہے۔
ٹک ٹاکر فاطمہ جتوئی کا کڑا امتحان، فیک ویڈیو نے زندگی بدل دی
Loading posts…
