ہمارے وٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

ایران میں سرکاری ٹی وی کی نشریات سے متعلق ایک غیر معمولی واقعہ سامنے آیا ہے جس نے سوشل میڈیا پر ہلچل مچا دی ہے۔ وائرل ہونے والی ویڈیوز میں دعویٰ کیا گیا کہ بعض سیکیورٹی اہلکار عوام کے حق میں مؤقف اختیار کر رہے ہیں، تاہم بعد میں سامنے آنے والی معلومات کے مطابق یہ معاملہ ایرانی ریاستی ٹی وی کے ہیک ہونے سے جڑا ہوا ہے۔
وی کی نشریات کو مختصر وقت کے لیے اپنے کنٹرول میں لے لیا۔ اس دوران اسکرین پر سابق ولی عہد رضا پہلوی کے پیغامات اور احتجاجی مناظر نشر کیے گئے، جن میں سیکیورٹی فورسز سے عوام کے خلاف کارروائی نہ کرنے کی اپیل کی گئی۔
اسی نشریاتی مواد کی بنیاد پر سوشل میڈیا پر یہ تاثر پھیل گیا کہ کچھ سیکیورٹی اہلکار حکومت کے خلاف عوام کے ساتھ کھڑے ہو گئے ہیں۔ تاہم حکام کی جانب سے ایسی کسی بغاوت یا مؤقف کی سرکاری تصدیق نہیں کی گئی۔
ایرانی حکام نے واقعے کو سائبر حملہ قرار دیتے ہوئے تحقیقات شروع کر دی ہیں، جبکہ سرکاری نشریات کو بحال کر دیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ واقعہ ایران میں جاری معلوماتی جنگ اور سائبر سرگرمیوں کی ایک اور مثال ہے۔یہ واقعہ نہ صرف ایران بلکہ پورے خطے میں میڈیا سیکیورٹی اور سائبر حملوں کے خطرات پر سنجیدہ سوالات اٹھا رہا ہے۔
