
ترکی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ سے متعلق قائم کیے جانے والے پیس بورڈ میں شمولیت کی دعوت قبول کر لی ہے۔ اس پیش رفت کو خطے میں سفارتی سرگرمیوں کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
ترک حکام کے مطابق ترکی امن کی ہر اس کوشش کا حصہ بننا چاہتا ہے جس کا مقصد غزہ میں جنگ بندی، انسانی امداد کی فراہمی اور دیرپا امن کی راہ ہموار کرنا ہو۔ ترکی کا مؤقف ہے کہ مسئلہ فلسطین کا منصفانہ اور پائیدار حل خطے کے استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ غزہ پیس بورڈ میں مختلف ممالک اور عالمی اداروں کے نمائندے شامل ہوں گے، جو جنگ بندی، انسانی بحران اور سیاسی حل پر مشاورت کریں گے۔ ترکی کی شمولیت سے اس فورم کو مزید سفارتی وزن ملنے کی توقع کی جا رہی ہے۔
امریکی حکام کی جانب سے تاحال پیس بورڈ کے مکمل دائرہ کار اور آئندہ اجلاس کی تاریخ سے متعلق تفصیلات جاری نہیں کی گئیں، تاہم عالمی مبصرین اس اقدام کو غزہ بحران کے حل کی جانب ایک نئی کوشش کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں
گندم کا ریٹ میں کتنا سستا ہوا ؟
