پائلٹ کی زندگی اور قید کے درمیان وہ چند گھنٹے جب موت سامنے کھڑی تھی
تہران/واشنگٹن: حالیہ دنوں میں ایران کی حدود میں گرنے والے امریکی ایف-15 جنگی طیارے کے عملے کا ریسکیو محض ایک فوجی آپریشن نہیں بلکہ اعصاب کی جنگ بن گیا۔ طیارہ گرنے کے فوراً بعد پائلٹ اور ویپن کنٹرولر کو دشمن کی گرفت سے بچانے کے لیے واشنگٹن اور تہران کے دستوں کے درمیان ایک ایسی دوڑ شروع ہوئی، جہاں جیت کا انعام زندگی اور ہار کا مطلب برسوں کی قید تھا۔
جب آسمان سے زمین تک کا سفر ‘جہنم’ بن جائے
امریکی فضائیہ کے ریٹائرڈ بریگیڈیئر جنرل ہیوسٹن کینٹ ویل کے مطابق، جب ایک جدید ترین فائٹر جیٹ میزائل کا نشانہ بنتا ہے، تو پائلٹ کے پاس فیصلے کے لیے پلک جھپکنے جتنا وقت ہوتا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ “ایک لمحہ پہلے آپ کروڑوں ڈالر کے جہاز کے مالک ہوتے ہیں اور اگلے ہی لمحے ایک دھماکے کے ساتھ آپ فضا میں لٹک رہے ہوتے ہیں۔”
‘سیری’ (SERE) ٹریننگ: بقا کا خفیہ فارمولا
دشمن کے علاقے میں گرنے کے بعد پائلٹ کی اصل طاقت اس کا جہاز نہیں بلکہ اس کی ‘سیری’ ٹریننگ ہوتی ہے۔ یہ وہ سخت تربیت ہے جو فوجی عملے کو سکھاتی ہے کہ
دشمن کی نظروں سے کیسے اوجھل رہنا ہے۔
تکلیف دہ حالات میں جبلت کا استعمال کیسے کرنا ہے۔
اپنی شناخت چھپا کر ریسکیو ٹیموں تک کیسے پہنچنا ہے۔
سروائیول کٹ: موت کے منہ میں زندگی کا سہارا
پائلٹ کی سیٹ کے نیچے ایک چھوٹی سی کٹ چھپی ہوتی ہے جو زمین پر اترتے ہی اس کا واحد اثاثہ بن جاتی ہے۔ اس کٹ میں درج ذیل اشیاء شامل ہوتی ہیں:
- رابطہ کاری: سیٹلائٹ ریڈیو اور جی پی ایس بیکنز تاکہ ہیڈ کوارٹر کو لوکیشن بھیجی جا سکے۔
- بقا کا سامان: توانائی بخش خوراک، پانی، تھرمل کمبل اور آگ جلانے کے آلات۔
- دفاع و سگنل: پستول، فلیئرز (روشنی کے گولے) اور دھوئیں والے بم تاکہ ریسکیو ہیلی کاپٹر کو اپنی موجودگی بتائی جا سکے۔
ریسکیو مشن: ‘اپنے سپاہی کو تنہا نہیں چھوڑنا’
پینٹاگون کی ‘کومبیٹ سرچ اینڈ ریسکیو’ ٹیمیں کسی بھی حادثے کے بعد فوری متحرک ہو جاتی ہیں۔ صومالیہ کے ‘بلیک ہاک ڈاؤن’ واقعے کے غازی سکاٹ فیلس کا کہنا ہے کہ ہر مشن سے پہلے ایک ‘ایگزٹ پلان’ تیار ہوتا ہے۔ ڈرونز اور انٹیلی جنس کی مدد سے پائلٹ کا سراغ لگایا جاتا ہے اور پھر ایلیٹ کمانڈوز دشمن کی صفیں چیرتے ہوئے اپنے ساتھیوں کو نکال لاتے ہیں۔
خلاصہ
ایران میں حالیہ کامیاب ریسکیو اس بات کی علامت ہے کہ جدید ٹیکنالوجی اور بہترین تربیت مل کر ناممکن کو ممکن بنا سکتی ہے۔ تاہم، جب دو ممالک کے دستے ایک ہی ہدف (پائلٹ) کے لیے آمنے سامنے ہوں، تو ہر سیکنڈ کی قیمت خون سے چکانی پڑتی ہے۔
