
کینیڈا اور امریکا کے درمیان جدید جنگی طیاروں کے معاہدے پر تناؤ بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔ کینیڈا نے 2022 میں امریکا سے 88 ایف 35 لڑاکا طیارے خریدنے کا معاہدہ کیا تھا، مگر اب اس منصوبے کی لاگت بڑھ کر 27.7 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے، جو پہلے اندازوں سے تقریباً 8 ارب ڈالر زیادہ ہے۔
برطانوی میڈیا کے مطابق امریکا نے کینیڈا کو واضح پیغام دیا ہے کہ اگر ایف 35 طیاروں کی خریداری سے پیچھے ہٹا گیا تو امریکی لڑاکا طیارے کینیڈا کی فضائی حدود میں بھیجے جا سکتے ہیں۔ اس انتباہ کو دونوں اتحادی ممالک کے درمیان غیر معمولی دباؤ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
امریکی سفیر پیٹ ہوکسترا کا کہنا ہے کہ اگر کینیڈا طیاروں کی تعداد کم کرتا ہے تو امریکا اپنی دفاعی صلاحیت برقرار رکھنے کے لیے اضافی ایف 35 طیارے خود استعمال کر سکتا ہے۔ ان کے مطابق یہ اقدام امریکا کی اسٹریٹجک ضروریات کے تحت ہو سکتا ہے۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی لاگت اور سیاسی دباؤ کے باعث کینیڈا میں اس معاہدے پر شدید بحث جاری ہے۔ آنے والے دنوں میں اوٹاوا کا فیصلہ نہ صرف کینیڈا کی دفاعی پالیسی بلکہ امریکا کے ساتھ تعلقات پر بھی گہرے اثرات ڈال سکتا ہے۔
